تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 362 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 362

۳۴۹ لڑ پر پڑھنے کے لئے داخل ہوئے اور مزید تین سال پنڈت کردر دیو شاستری وید شرومنی سے پڑھ کر " دید بھوشن کی سند حاصل کی۔اس کے بعد اپنے طور پر ویدک دھرم کا بہت سالٹ پھر مثلاً براہمن گرنتھ ، دھرم سوتر ، ثروت شوتر ، اور دھرم شاستر وغیرہ پڑھا۔اور ستیارتھ پرکاش ہم اسمول اس کے جواب میں آسمانی پر کاش"، "وید مقدس اور قرآن کریم دو کتابیں لکھیں مولوی صاحب موصوف ساڑھے سات سال تک محنت شاقہ کرتے رہتے اور آخر سنسکرت کی اعلی ڈگریا حاصل کر کے مئی ماہ میں قادیان واپس تشریف لے آئے ہے حضرت امیرالمؤمنین خلیفہ اسیح الثانی نے مولوی صاحب کے اس جذبہ ایمانی اور خدمت دینی کی بہت تعریف کی اور فرمایا :- انہوں نے اپنے ہم عمروں اور ہمجولیوں کے لئے ایک نہایت ہی عمدہ مثال قائم کی ہے۔اگر ہمارے دوسرے نوجوان بھی اس بات کو مد نظر رکھیں کہ آرام طلبی اور باتیں بنانے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ کام کرنے سے حقیقی عزت حاصل ہوتی ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں مختلف زبانوں کے ماہر نہایت سہولت کے ساتھ نہیتا ہو سکتے ہیں" کے اس ضمن میں مزید فرمایا :- یکیں جماعت کے نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو جوش اور ولولہ مولوی عبداللہ صاحب نے سنسکرت کی تعلیم کے حصول کے لئے دکھایا ہے، اُسے وہ بھی اپنے اندر پیدا کریں۔پھر میں یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ مولوی عبد اللہ صاحب نے نہایت کمزور صحت کی حالت میں جو تعلیم حاصل کی ہے وہ دوسروں کے لئے بھی مفید ہو اور صدقہ جاریہ کا کام دے۔“ شہ مولوی ناصرالدین عبد اللہ صاحب سالہا سال تک جامعہ احمدیہ کی سنسکرت کلاس کو پڑھاتے رہے۔اور آخر اور دسمبر کار کو انتقال فرما گئے شہ مٹی عنہ کو شکار پور (سندھ) میں شدید سند و مسلم فساد رو نما ہو ایرانی شکار پور سندھ میں فساد کیا۔فساد کی وجہ یہ ہوئی کر بعض ہندوؤں نے ایک مسجد میں گھس کر له وسه " الفصل " ، مئی ۱۹۳۷ء سے " الفضل " م مئی ۳۷ہ صفحہ اکالم ۲ : که شه تقریر فرموده ، ارجون ۱۹۳۶ مطبوعہ الفضل " ۲۳ جون ۱۹۳۷ صفحه ۴ : + "الفضل " ۲۴ جنوری ۱۹۴۸ئه صفحه ۴ *