تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 361
MNA لڑائی پر ہی آمدہ ہوں تو اُن کی مدد کرے۔ایک فرانسیسی محمد رسول اللہ کا منکر ہے اور ٹرک قائل بے شک ترک کی حکومت سے عمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری حکومت قائم نہ ہو لیکن ادھوری حکومت بھی بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے۔پس ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اگر لڑائی سے انہیں نقصان پہنچنا ہو تو اللہ تعالے اس سے اُن کو بچا لے اور اگر اسی طرح ان کے حقوق حاصل ہو سکتے ہوں تو انہیں ہمت دے۔اور نہیں تو ہم اُن کی دُعا سے تو مدد کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ضرورت کے موقعہ پر چندے وغیرہ بھی دے سکتے ہیں ، سٹہ ہمیں ترکوں کے لئے بھی دعا کرنی چاہیئے۔آخر وہ اسلام کے نام لیوا ہیں۔اگر لڑتا ان کے لئے مضر ہو۔تو اللہ تعالے انہیں لڑائی سے بچالے اور اگر مفید ہو تو اُن کے ہاتھوں میں طاقت وقوت عطا کرے۔اور اُن کے دشمنوں کے ہاتھوں کو شل کر دے تا یہ بہادر قوم جو سینکڑوں سال سے مسیحی دنیا کے تعصب کا شکار ہو رہی ہے۔اسلام کے نام کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا نہ ہو نہ سکے اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کی دُعا کو شرف قبولیت بخشا اور مخالف حالات کے با وجود اس علاقہ کے متعلق تمر کی اور فرانس میں معاہدہ ہو گیا کہ اسے ایک خود مختار حکومت کی تیثیت سے داخلی امور میں کابل آزادی دی جائے گی۔سیہ سنسکرت سیکھنے کے بعد مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب آفت بگول جامعہ احمد مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب کی واپسی کے فارغ التحصیل مولوی فاضل تھے۔ایک بار اُن کے سامنے کسی آرید نے احمدی مبلغین سے یہ مطالبہ کیا کہ تم پہلے وید پڑھ کر سناؤ۔پھر آریہ دھرم پر اعتراض کرو۔اس پر انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو یا تو دید پڑھنے کی قابلیت حاصل کروں گا یا اسی راہ میں جان دے دوں گا مولوی صاحب موصوفت یہ عزم کر کے بنارس گئے پہلے ہندی سیکھی۔پھوڈیڑھ سال میں پر کھتی اور مد عماد و امتحان دیئے۔پہلے امتحان میں سب سے اول آئے اور دوسرے میں سیکنڈ ڈویژن لے کر پاس ہوئے۔گویا صرف تین برس میں ہندی بھی سیکھی اور ساتھ ہی سنسکرت کے تینوں امتحان کلکتہ یونیورسٹی سے پاس کر کے کا یہ تیرتھ کی سند حاصل کی۔اس کے بعد شنل یونیورسٹی بنارس میں جس کا نام و دریا پیٹھ ہے دیدک کا ا " الفصل " ۲۳ جنوری ۱۹۳۷ ده صفحه ۷-۲۸ "افضل" ۳۱ جنوری ۹۳ ه صفحه ۰۹ سة "الفضل" وارجون ۱۹۳۷ صفحه ۲ کالم ۱+ +1