تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 360 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 360

چین اور افغانستان وغیرہ ممالک ممکن ہے بچ جائیں مگر انگلستان کا ان اثرات سے محفوظ رہنا محال ہے۔اس لئے دوستوں کو خصوصیت سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ آئندہ جو سامان لڑائی یا فتنہ کے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اور ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والی اقوام کے لئے ان سے بچنے کے سامان بھی کر دے۔بے شک تم مسولینی کی طرح گھونسہ نہیں دکھا سکتے۔ہٹلر کی طرح تلوار نہیں چپکا سکتے مگر دعائیں تو کر سکتے ہو اور پھر اپنے آپ کو منظم کر سکتے ہو کیونکہ منظم قوم کو ہر ایک اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ انگریزوں کے بعض افراد سے ہمیں شکوہ ہے اور جب تک ازالہ نہ ہو جائے وہ دور نہیں ہو سکتا۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ انگریز قوم کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے ہیں کہ اس کی تباہی کے بعد ہم نقصان سے نہیں بچ سکتے۔اس لئے یہ بھی دعا کرنی چاہئیے کہ اسد تعالی انگریزوں کو ایسے رستہ پر چلائے جو انہیں تباہی کی طرف نہ لے جانے والا ہو۔" اے فرانس نے شام کے بعض علاقے (اسکندرون وغیرہ) ترکی سے سہتھیا لئے ہوئے ترکی اور فرانس کا تنازعہ تھے ترکینے یصلہ کیا کہ اگر فرنس اس کے علاقے واپس نہیں کرے گا، یا لیگ آفت بیشتر کی معرفت کوئی مناسب سمجھوتہ نہ ہوا تو ہم بزور شمشیر علاقے لے لیں گے۔سید نا حضرت خلیفتہ اہسیح الثانی نے اس مرحلہ پر ترکی حکومت سے اپنی ہمدردیوں کا اظہار کرتے ہوئے اعلان فرمایا :- ترک ایک ایسی قوم ہے جس نے اسلام کے کئی پہلوؤں کو ترک کر دیا ہے مگر باوجود اس کے لا الہ الا اللہ کی صدائیں اب بھی اُن کی مسجدوں سے آتی ہیں۔اب بھی اُن کی نمازوں میں خدا تعالیٰ کا کلام پڑھا جاتا ہے۔اب بھی وہ سُبْحَانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ، إِنْشَاء الله اور لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ الا اللہ کہتے ہیں۔اگر بعض باتوں میں وہ غلطی پر ہیں تو اسلام کی بعض باتوں پر وہ نائم بھی ہیں۔اس لئے اُن کے دکھوں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔تمام اختلافات کے باوجود یہ ہو نہیں سکتا کہ ترک دُکھ میں ہوں اور ایک مسلمان کہلانے والا تکلیف محسوس نہ کرے۔اس لئے ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ اگر تورک بہر حال لڑائی پر ہی آمادہ ہوں تو اللہ تعالے اُن کی مدد کرے اور انہیں طاقت دے۔ان کی مثال یورپین حکومتوں میں ایسی ہی ہے جیسے بنتیں دانتوں میں زبان کی اور ایک بالشتئے کی جو پہلوان سے لڑائی پر آمادہ ہو۔اس لئے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالئے اول تو اُن کو لڑائی سے بچائے اور اگر وہ له " الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۳ صفحه ۲۰۶