تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 359
ابھی قبضہ اور تصرف حاصل نہیں اُن کو اپنے اختیار میں لانے کی سعی اور کوشش کرے گی۔یاد رکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں۔۔۔۔ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے ہیں اس پر خوش مت ہو کہ تلوار سے جہاد آجکل جائز نہیں یا یہ کہ دینی لڑائیاں بند کر دی گئی ہیں۔لڑائیاں بند نہیں کی گئیں۔لڑائی کا طریقہ بدلا گیا ہے۔اور شاید موجودہ طریقہ پہلے طریق سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ تلوار سے ملک کا فتح کرنا آسان ہے۔لیکن دلیل سے دل کا فتح کرنامشکل ہے۔نہیں آرام سے مت بیٹھو کہ تمہاری منزل بہت دور ہے اور تمہارا کام بہت مشکل ہے اور تمہاری ذمہ داریاں بہت بھار کیا ہیں۔آپ لوگوں کو خدا تعالے کا حکم ہے کہ قسمہ آن کی تلوار لے کر دنیا کی تمام حکومتوں پر ایک ہی وقت میں حملہ کر دیں اور یا اس میدان میں بھان دے دیں یا ان ملکون کو خدا اور اس کے رسول کے لئے فتح کریں۔اس چھوٹی پھوٹی باتوں کی طرف مت دیکھو اور اپنے مقصود کو اپنی نظروں کے سامنے رکھو اور ہر احمدی خواہ کسی شعبہ زندگی میں اپنے آپ کو مشغول پاتا ہو۔اس کو اپنی کوششوں اور مستیوں کا مرجع صرف ایک ہی نقطہ رکھنا چاہیئے کہ اُس نے دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنا ہے" ہے ایک خوفناک عالمگیر جنگ کی خبر اور اعہ کا زمانہ سیاسی اعتبارست پوری دنیا کے لئے سخت سیاسی خلفشار اور تشویش و اضطراب کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ دکھاوں کی خاص تحریک صفت در اورد لیگ آف نیشنز کا بین الاقوامی ادارہ اپنے مقصد کی تکمیل میں ناکام ہوچکا تھا۔جرمنی، اٹلی اور جاپان دنیا بھر میں چھا جانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ان حالات میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت احمدیہ کو قبل از وقت انتباہ بھی کیا اور دعاؤں کی خاص تحریک بھی کی بچنا نچہ حضور نے در جینوری علیہ کے خطبہ جمعہ میں جانی سیاسیات کا بجائزہ لیتے ہوئے فرمایا :- " اس زمانہ میں پھر دنیا میں شدید تغیرات پیدا ہو رہے ہیں اور عنقریب شدید لڑائی لڑی جانے والی ہے جو انگریزوں اور جرمنوں کی گذشتہ جنگ سے بھی سخت ہوگی۔یہ اس وقت تک اس وجہ سے لرکی ہوئی ہے کہ انگریز ابھی تیار نہیں۔۔۔۔حالات ایسے ہیں کہ انگریز اس جنگ سے باہر نہیں رہ سکتے۔اه " الفصل " درجنوری ۱۹۳۷ء صفحه ۲۵۴