تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 357
کے ساتھ حضرت امیر المومنین کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے عریضہ تحریر کرو چنانچہ اسکی تجویز کردہ شرائط کے ساتھ گو وہ خاکسار کو نا پسند تھیں ایک عریضہ حضور کی خدمت میں تحریر کر دیا۔جس کا جواب سیکرٹری صاحب کی طرف سے یہ آیا کہ حضور نے بعد ملاحظہ عریضہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ طریق نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور نہ ہمارا۔اس کے لئے آپ کسی اور کو تلاش کریں ، یہ جواب پاکر ایک زبر دست نکتہ سمجھ میں آیا مگر اس کے ساتھ اپنی باقیمتی پر رنج بھی ہوا۔کیونکہ بعض قسمت والوں کی خطا بھی اُن کی سعادت اور کامیابی کا موجب بن جاتی ہے۔اگرچہ یہ جواب بعد میں ایک زبردست پیشگوئی ثابت ہوا۔کیونکہ آسمان پر ان شرائط کے خلاف فیصلہ ہو چکا تھا جیسا کہ بعد میں ظہور میں آیا۔اگر دعاء کی جاتی تو اسکے یہ معنے ہوتے کہ خدا کے بندوں کی دُعائیں تعوذ باللہ لغو بھی ہوتی ہیں۔انہی دنوں خاکسار نے تعلیم کو ملتوی کر کے لاہور میں ایک متوسط درجہ کا ہوٹل جاری کیا۔انتظامی نقص کی وجہ سے قریباً ہزار روپیہ بندہ پر قرض ہو گیا اور سارہ پاک مجبورا اس کو بند کرنا پڑا۔اس طرح مزید پریشانی کا ایک اور سبب پیدا ہوگیا۔ادھر یہ حالات رونماتھے اور مسجد شہید گنج کا شاخسانہ مشروع ہو گیا۔اصحاب فیل کی طرح احرا کی تمام کوششیں هباء منثورا ہوگئیں۔اتنی عزت کے بعد یکلخت انتہائی ذلت۔آنکھیں رکھنے والوں کیلئے سرمہ عبرت ثابت ہوئی۔کہاں احمدیت کو فنا کرنے کے دعاوی اور کہاں یہ انتہائی ناکامی سمجھنے والے اس راز کو سمجھ گئے۔احترا نے لاکھ ہاتھ پاؤں مارے گر ہوا یہی جس کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ہر مین کیا مگہ بگڑی بات بنائے نہ بنی۔صاف سامان نظر آنے لگا۔قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کا فر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے جب جماعت احمدیہ کے سالانہ اجتماع شراء کی تیاریاں شروع ہوئیں اور اشتہارات کے ذریعے تاریخ اتفاق کا اعلان کیا گیا تو مذکورہ بالا احمدی دوسری نے خاکسار کو بھی اس مبارک تقریب سے مستفید ہونے کی ترغیب دی۔چنانچہ جلسہ میں شامل ہونے کیلئے تاریخ مقرہ پر خاکسار قادریان پہنچ گیا۔جلسہ کی کارگزاری دعاوں کے رقت انگیز نظارے حضور کی پر اثر تقریری اور عیدالاضحیہ کا پر معارف خطبہ ایسے امور نہ تھے جو متلاشی مینی کیلئے کفایت نہ کرتے۔دل میں صداقت کا اور چمکا اور بعداز نماز ظهر مسجد مبارک میں حضور کے دست مبارک پر گذشتہ گنا ہوں سے توب اور آئندہ دو سے بنے کی کوشش کا اقرار کرتے ہوئے جماعت احمدیہ میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔بلے ے پر یکم جنوری شام کا دین تھا۔ین اصل خط محفوظ ہے