تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 343
کھیں کا پہلونہ ہو۔جب بھی طے ہو جائیں تو مجھے مولوی صاحب سے مباحثہ کرتے ہیں کوئی عذر نہیں۔الا آن يشاء الله مباحثہ کی غرض اگر ایک جماعت تک حقی کی آواز کا پہنچانا ہو تو اس میں مجھے عذر ہی کیا ہوسکتا ہے عذر تو اسی صورت میں ہوتا ہے جب مباحثہ کو کھیل یا فساد کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد یا اے مولوی محمد علی صاحب جنہوں نے خود ہی فیصلہ کن بحث کی خواہش ظاہر فرمائی منی مسئلہ نبوت پر گفتگو کرنے سے یہ کہکر گریز اختیار کیاکراو بحث مسئلہ تکفیر المسلمین پر ہونی چاہئے۔کیونکہ دونوں جماعتوں کا اختلات اسی مسئلہ پر شروع ہوا تھا۔تکفیر اختلاف کی اصل ہے۔اور مسئلہ نبوت اس کی فرع یہ ہے انہ تکفیر کو ابال لیا ہے۔اور مسئلہ نبوت کو اس کے بعد۔سل نیز کہا کہ دونوں جماعتوں میں جوبہ اختلاف ہوا تو جرہ مسئلہ کفر و اسلام ہے یا یاد رہے کہ یہ وہی مولوی محرمعلی عام تھے جو 1910ء سے متواتر یہ کہتے آرہے تھے کہ :- " ہمارے درمیان جو اختلافی مسائل ہے۔اس کی اصل جڑا مسئلہ نبوت ہے۔اگر ہجائے احباب محض اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مد نظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیں تو سکی راہ نہایت آسان ہے یا ک یہی نہیں۔انہوں نے حلفیہ اعلان بھی کیا کہ :- میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے۔دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے؟ شے مولوی محمد علی صاحب کے اس جدید موقف پر کہ جو مسئلہ کفر السلام سے مولوی شاء اللہ صاحب مرتسری ایسے معاند احمدیت کو اپنے اخبار اہلحدیث (۵ار جنوری اداروں میں لکھنا پڑا کہ - اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ان دونوں مضمونوں میں سے مسئلہ نبوت اصل ہے اور تکفیر اسکی فرع ہے۔۔۔خلیفہ قادیان اصولی بات کرتا ہے۔اور لاہوری امیر صاحب کو مخفی غرض سے اس کو ٹال رہے ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ کفر مرتب ہے انکار نبوت پر۔پس بحث کا اصل مدار نبوت پر ہونا چاہیے۔اس لئے ہم مناظرانہ حیثیت سے ه الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۳۷ و صفحه ۳ * له "پیغام صلح ۵ در دسمبر ۱۹۳۶ء صفحه ۶ کالم ۳۶۲ پیغام صلح دار دسمبر ۹۳ ابو صفویه کالم ۳ : ۲۲ پیغام صلح ۲۳ دسمبر ۹۳۷ ر : ۲۵ اٹریکٹ مسئلہ نبوت کا ملہ تامر اور جبر کی نبوت میں ترقی صفورا ہے