تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 12
۱۲ نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک ہوں گے لیکن روٹی کے ساتھ دو سالنوں یا چاولوں کے ساتھ دو سالنوں کی است نہ ہو گی۔۔۔سوائے اس صورت سے کہ کوئی دعوت ہو یا مہمان گھر پر آئے۔اس کے احترام کے لئے اگر ایک سے زائد کھانے تیار کئے جائیں تو یہ جھائے ہوگا۔مگر جہان کا قیام لمبا ہو تو اس صورت میں اہل خانہ خود ایک ہی کھانے پر کفایت کرنے کی کوشش کرے یا سوائے اس کے کہ اس شخص کی کہیں دعوت ہو اور صاحب خانہ ایک سے زیادہ کھانوں پر اصرار کرے یا سوائے اس کے کہ اس کے گھر کوئی چیز بطور تحفہ آجائے یا مثلاً ایک وقت کا کھانا تھوڑی مقدار میں نیکی کر دوسرے وقت کے کھانے کے ساتھ استعمال کر لیا جائے۔۔جہان بھی اگر جماعت کا ہو تو اُسے بھی چاہیئے کہ میزبان کو مجبور نہ کرے کہ ایک سے زیادہ سالن اس کے ساتھ مل کر کھائے۔بہر احمدی اس بات کا پابند نہیں بلکہ اس کی پابندی صرف اُن لوگوں کے لئے ہوگی جو اپنے نام مجھے بتا دیں۔لباس کے متعلق میرے ذہن میں کوئی خاص بات نہیں آئی۔ہاں بعض عام ہدایات میں دیتا ہوں مثلا یہ کہ جین لوگوں کے پاس کائی کپڑے ہوں۔وہ ان کے خراب ہو جانے تک اور کپڑے نہ بنوائیں پھر جو لوگ نئے کپڑے زیادہ بنواتے ہیں۔وہ نصف پر یا تین چوتھائی پر یا کہے پر آجائیں۔۔۔۔ہاں سب سے ضروری بات عورتوں کے لئے یہ ہوگی کہ محض پسند پر کپڑا نہ خریدیں۔۔۔۔بلکہ ضرورت ہو تو خریدیں دوسری پابندی عورتوں کے لئے یہ ہے کہ اس عرصہ میں گوٹر کنار کا فیتہ وغیرہ قطعا نہ خریدیں۔۔۔۔تیسری شرط اس ترین یہ ہے کہ جو عورتیں اس عہد میں اپنے آپ کو شامل کرنا چا ہیں۔وہ کوئی نیاز بور نہیں بنوائیں گی اور جو مرد اس میں شامل ہوں وہ بھی عہد کریں کہ عورتوں کو نیا زیور بنوا کر نہیں دیں گے۔پرانے زیور کو تڑوا کر بنانے کی بھی ممانعت ہے۔۔۔جب ہم جنگ کرنا چاہتے ہیں تو روپیہ کو کیوں خواہ مخواہ ضائع کریں خوشی کے دنوں میں ایسی جائزہ باتوں سے ہم نہیں روکتے۔لیکن جنگ کے دنوں میں ایک پیسہ کی حفاظت بھی ضروری ہوتی ہے۔ہاں ٹوٹے ہوئے زیور کی مرقمت جائز ہے۔۔۔۔علاج کے متعلق میں کہ چکا ہوں کہ اظہار اور ڈاکٹر سستے نسخے تجویز کیا کریں۔۔۔۔پانچواں خرج سنیما اور تماشے ہیں۔ان کے متعلق میں ساری بقیه حاشیه معمر گذشته یعنی حضرت ابوحرم سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی حضرت حفصہ کے ہاں تشریف لائے حضرت حفصہ نے سالن میں زیتون کا تیل ڈال کر پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ ایک وقت میں دو دو سالن را خدا کی قسم میں اسے کبھی نہیں کھاؤں گا ہے اے حضور نے اس مطالبہ کی مزید تشریح کے دسمبر کے خطبہ جمعہ میں بھی فرمائی۔یہ خطبہ ۱۳ دسمبر ۱۹۳۶ء کے الفصل " میں شائع شدہ ہے۔