تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 322 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 322

فصل ششم البانیہ میں آپ کا ایک آزاد ملک ہے جس کے اکثر باشند سے منفی دارالتبليغ البانی و یوگوسلاویہ مسلمان ہیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس ریاست میں اشاعت احمد آیت کے لئے مولوی محمد الدین صاحب کو د اپریل پیر کو قادیان سے روانہ فرما بایت مولوی صاحب موصوف بجما عتی پروگرام کے مطابق مختلف ممالک میں ٹھہرتے ہوئے دوماہ کے لیے سفر کے بعد البانیہ کے : ارالسلطنت ٹیرانیہ میں پہنچے۔البانیہ میں آپکو تین ماہ تک قیام کرنے کا موقعہ ملا۔اس عرصہ میں آپ نے احمدیت کا پیغام پہنچایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام یہاں پہلے ہی اخباروں، رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ پہنچ چکا تھا لیکن لوگ پوری حقیقت سے اچھی طرح آگاہ نہ تھے۔جن لوگوں کو احمدیہ لٹریچر کے مطالعہ کا کہ موقعہ ملا۔ان میں سے ایک البانوی خاندان مولوی صاحب کے ذریعہ سے حلقہ بگوش احمدیت ہو گیا۔اس طرح البانیہ میں احمد تیت کی داغ بیل پڑ گئی۔نیز احمدیت کے کئی مکان پیدا ہو گئے لیے آپ کو تین ماہ کے بعد مقامی ملاؤں کی شرارت کے باعث مجبورا ملک چھوڑنا پڑا۔آپ مرکز کی ہدایت پر بلگراد (یوگوسلاویہ تشریف لے گئے تا وہاں سے البانیہ کے سرحدی ملحقہ علاقوں پر اثر و نفوذ ڈال سکیں۔چنانچہ آپ نے یہاں اگر پیغام حق پہنچانا شروع کر دیا۔جولائی کہ یہ میں آپ علاقہ کوسواً میں گئے جو البانیہ کے ساتھ ملتا ہے مگر یوگوسلاویہ کے ماتحت تھا۔اس سفر میں بوڈا لپسٹ کے مخلص سفر احمدی شریف د تسا صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے۔آپ نے سر سے پہلے اُن کے گاؤں مترو ویسلا ئیں قیام کرکے تبلیغ کی یہ یوگو سلاویہ میں خدا کے فضل و کرم سے تیس نفوس نے احمدیت قبول کی شہ ܀ A۔ه الفضل ۲۱ را پریل ۱۹۳۶ء صفحہ کالم 1 مسلے " لویه آن پیجز آرد و جولائی انشاء صفحه ۵۰ : ۳ البم شائع کرده تحریک تجدید صفحه ۲ : ۵۲ الفضل ۱۲ ستمبر ۱۹۳۵ء صفی ، دو کے بلگراڈ میں سب سے پہلے خوش قسمت جن کو قبول احمدیت کی توفیق علی۔وہ ایک ذی ثروت و وجاہت دوست انور نامی تھے تو البانین ، ٹمر کی ، جرمن ، فریخ ، اطالین اور گریس، نہ بان جانتے تھے۔آپ کے بعد دوسرے نمبر پر ایک ترک نجم دین صاحب نے بیعت کی جوٹر کی فوج کے ایک بہت بڑے عہدہ پر رہ چکے تھے اور ان دنوں لکڑی کے ایک بہت بڑے کارخانے میں کام کرتے تھے : الفضل اور فروری ۱۳۶ ۶ صفحه ۲ : ۶ الیم شائع کردہ تحر یک حدید شراء - ابتدائی تین ماہ میں دو اشخاص نے بیعت کی اور عجیب ہارت ہے کہ دونوں پر صداقت احمدیت بذریعہ خواب منکشف ہوئی تھی۔(الفضل ، ار فروری ۱۹۳۶ء صفحہ ۵)