تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 321 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 321

دہ شیطان کا مبلغ ہے کیونکہ اس کو تقویت دے رہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام نے کونسے مبلغ رکھے ہوئے تھے۔یہ تو گندگی اور نجاست ہے جسے زمانہ کی اس مجبوری کیوجہ سے کہ آریوں اور عیسائیوں نے اس قسم کے لوگ رکھے ہوئے ہیں۔جن کا مقصد اسلام کو نقصان پہنچانا ہے۔اُن کے مقابلہ کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا کوئی کہ سکتا ہے۔کہ جس وقت کوئی شخص پاخانہ میں جا کر بیٹھتا ہے تو وہ اُس کا بہترین وقت ہوتا ہے۔وہ تو مجبوری کا وقت ہوتا ہے۔اسی طرح تبلیغ کے لئے ایسا انتظام تو ایک مصیبت ہے اور ایک مجبوری ہے۔پس مبلغوں کو اس حقیقت کو سمجھا چاہئے کہ گذار لینے میں عیب نہیں مگر گزارہ کیلئے کام کرنا عجیب ہے۔مبلغ یہ ہے کہ اُسے کچھ لے یا نہ ملے۔اس کا فرض ہے کہ تبلیغ کا کام کرے۔پرانے مبلغ مثلا مولوی غلام رسول صاحب و زیر آبادی مولوی غلام رسول صاحب را جیکی مولوی محمدا با نیمی صاحب براہیم بقا پوری۔انہوں نے ایسے وقتوں میں کام کیا جب ان کی کئی مرد نہ کی جاتی تھی اوراس کام کی وجہ سے اُن کی کوئی آمد نہ تھی۔اس طرح انہوں نے قربانی کا عملی ثبوت پیش کر کے بتادیا کہ وہ دین کی خدمت بغیر کسی معاوضہ کے کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر ان کی آخری عمر میں گذارے دیئے جائیں تو اس سے اُن کی خدمات حقیر نہیں ہو جائیں۔بلکہ گزارہ کو اُن کے مقابلہ میں حقیر سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ جس قدر انکی امداد کرنی چاہیئے۔اتنی ہم نہیں کر رہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر بالغ اپنے آپکو خلیفہ بھتا ہے۔اور خیال کرتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے۔جوائس کے جی میں آئے سنائے۔اور جونہ چاہیے نہ سنائے حالانکہ کا بانسری ہے۔جس کا کام یہ ہے کہ جو آواز اس میں ڈالی جائے اسے باہر پہنچائے۔اگر مبلغ یہ سمجھتے کہ وہ ہتھیار ہیں میرا۔نہ کہ دماغ ہیں جماعت کا۔تو وہ میرے خطبات لیتے اور جماعت میں اُن کے مطابق تبلیغ کرتے۔اور اس طرح اس وقت تک عظیم الشان تغیر پیدا ہو چکا ہوتا۔۔۔مبلغین کا کام یہ ہے که خلافت کو ہر آواز کو خود نہیں اور مجھیں۔پھر ہر جگہ ایسے پہنچائیں " لے رپورٹ مجلس مشاورت ۳۶ دار و صفحه ۲۲ تا ۲۷