تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 320
سم ہنوں اور اس کے لئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ نہ کی جائے۔دنیا چو نکر صنعت و حرفت میں بہت ترقی کر چکی ہے۔اسلئے احمدی جو اشیاء اب بنائیں گے وہ شروع میں مہنگی پڑیں گی مگر با وجود اسکے جماعت کا فرض ہے کہ انہیں خریدے " لے اس سال حضور نے مبلغین احمدیت کو مختلف مواقع افضائح مبلغین کو نہایت اہم نصائح ا فرمائیں۔چنانچہ مجلس مشاورت ۱۹۱۳ء میں ارشاد فرمایا کہ اور مبلغ ایسے ہونے چاہئیں جن میں دین کی روح دوسروں کی نسبت زیادہ قوی اور طاقتور ہو۔اور وہ دین کے لئے ہر وقت قربان ہونے کے لئے تیار ہوں۔وہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لٹوں کی طرح چکر لگائیں۔۔۔ہمیں وہ تیز طرار مبلغ نہیں جچا ہیں جو خم ٹھونگے میدان مباحثہ میں نکل آئیں اور کہیں کہ آؤ ہم سے مقابلہ کرلو۔ایسے مبلغ آریوں اور عیسائیوں کو یہی مبارک ہوں۔ہمیں تو وہ چاہئیں جن کی نظریں بیچی ہوں۔بو شرم و حیاء کے پتلے ہوں۔جو اپنے دل میں خوف خدا رکھتے ہوں لوگ جنہیں دیکھ کو کہیں یہ کیا جواب دے سکیں گے۔ہمیں اُن مبلغوں کی ضرورت نہیں جو مباحثوں میں حجیت جائیں۔بلکہ ان خادمان دین کی ضرورت ہے۔جو سجدوں میں جیت کر آئیں۔اگر وہ مباحثوں میں ہار جائیں تو سو دفعہ ہار جائیں۔ہمیں اسکی کیا ضرورت ہے کہ زبانیں چیچارہ ہیں مگر ہمارے حصہ میں کچھ نہ آئے۔سر جنبش کریں اور ہم محروم رہیں۔میں مانتا ہوں کہ اس میں بیرونی جماعتوں کا بھی قصور ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ خلا مبلغ کو بھیجی جائے۔خلال کا آنا کافی نہیں۔کیونکہ وہ چٹخارے دار زبان میں بات نہیں کر سکتا۔یہ میچ ہے۔یہ صحیح ہے۔مگر لیڈر وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو پیچھے چلائے۔نہ کہ لوگ بعد ھر چاہیں اُسے لے جائیں۔جو شخص تقوی وطہارت پیدا کرتا ہے۔جو قلوب کی اصلاح کرتا ہے وہی حقیقی مبلغ ہے جو یہ سمجھے کہ میں نوکر ہوں اور جو وہاں جائے جہاں ایسے حکم دیا جائے۔ایسے مبلغ کو ہم نے کیا کرنا ہے۔جسے اگر کہیں اس سے اچھی نوکری مل گئی تو وہاں چلا جائے گا۔ہمیں وہ مبلغ چاہئیں جو اپنے آپکو ملازم لازم نہ مجھیں بلکہ خداتعالی کیلئے کام کریں اور اسی سے اجر کے متمنی ہوں۔جو ایسا نہیں کرتا۔وہ ہمارا مبلغ نہیں۔بلکہ ہمارے دشمن کا مبلغ ہے۔ے رپورٹ مجلس مشاورت مل۱۹۳ ء صفحہ ۲۶