تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 319 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 319

یہ تھا کہ کام کرنے والوں کو گڑھے سے لیکر جو ہر تک تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر دو قطاروں میں کھڑا کیا گیا۔ایک قطار بھری ہوئی ٹوکریاں ہا تھوں ہاتھ گڑھے تک پہنچاتی اور دوسری قطار خالی ٹوکریاں اُسی طرح واپس پھیر دیتی جنہیں فورا بھر کر پھر روانہ کردیا جاتا۔نے اس پہلے وقار حمل کے بعد جب اپنے عہد صحابہ کی سادہ زندگی اور سادہ معاشرت کی یاد تازہ کر دی۔اس اجتماعی مظاہرہ کا ایک سلسلہ جاری کر دیا گیا۔جو تقسیم ہند ت ال ہو تک پوری شان سے چلتا رہا۔ابتداء میں یہ کام صدر انجمن احمدیہ کی لوکل انجمن کی نگرانی میں ہوتا تھا مگر بعد کو اسے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر انتظام کر دیا گیا۔جسکے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور دلچسپی پیدا ہوگئی۔اور کام میں نظم وضبط اور باقاعدگی کا ایک خاص رنگ پیدا ہوگیا اور قادیان کی متعدد سڑکیں درست طور پر بن گئیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی بن حضرت امیر المومنین نے مجلس مشاورت اجلاس اول دمنتقد ۱۰ ۱۱ ۱۲ را پریل شاہ) میں جماعت کو صنعت و حرفت کیطرف کا ایک ولولہ انگیز ارشادہ متوجہ کرتے ہوئے یہ ولولہ متوجہ کرتے ہوئے یہ ولولہ انگیز بیان دیا کہ " میں نہیں جانتا۔کہ ولولہ دو کے دوستوں کا کیا حال ہے لیکن میں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں۔میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو۔اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں۔اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں۔کاش یہ جہاز احمدیوں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔میں پچھلے دنوں کراچی گیا۔تو اپنے دوستوں سے کہا۔کا کسش کوئی دوست جہاز نہیں توکشتی بنا کر ہی سمندر میں چلانے لگے۔اور میری یہ حسرت پوری کر دے اور میں اس میں بیٹھ کر کہ سکوں کہ آزاد سمندر میں یہ احمدیوں کی کشتی پھر رہی ہے۔دوستوں سے میں نے یہ بھی کہا۔کاش کوئی دس گز کا ہی جزیرہ ہو جس میں احمدی ہی احمدی ہوں اور ہم کر سکیں که بری احمدیوں کا ملک ہے کہ بڑے کاموں کی ابتداء چھوٹی ہی بچیزوں سے ہوتی ہے۔یہ ہیں میرے ارا دے۔اور یہ ہیں میری تمنائیں۔ان کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کا م شروع کریں گر یہ کام ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ ان جذبات کی لہریں میرا ایک احمدی کے دل میں پیدا نہ ۶۱۹۳۶ الفصل یکم اپریل ۹۳ صفر ۲ + کو