تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 317
هم ۴۳۰ قائم نہیں کی جاسکتی۔دورنہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے میرے دل میں تو اتنی زبردست خواہش ہو کہ اسکا کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔اور اپنی اس خواہش کا میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔اور اگر میں انکار کروں اور میرے دل میں اسلامی حکومت کے قائم کرنے کی خواہش نہ ہو تو اسلام کے احکام کے حصے پورے کسی طرح ہو سکتے ہیں جن کے لئے ایک نظام کی ضرورت ہے۔کیا کوئی شخص پسند کرے گا کہ اسکا گھر اُدھورا ر ہے ؟ اگر کوئی شخص اپنے مکان کے متعلق یہ پسند نہیں کر سکتا کہ وہ اُدھورا رہے تو خدا تعالے کے گھر کے متعلق کہ یہ امرکب پسند کرے گا۔اس میں کیا شک ہے کہ جب تک تمام دنیا مسلمان نہیں ہوتی اور خود حکومت اسلامی حکومت نہیں ہو جاتی۔اس وقت تک اسلام کی عمارت کانی رہتی ہے۔اور اپنی عمارت کا کانا ہوناکون پسند کر سکتا ہے ؟ جب ہر شخص اپنی عمارت کو مکمل دیکھنا چاہتا ہے توکب کوئی عقلمند ہم سے یہ امید رکھ سکتا ہے کہ ہم اسلام کی عمارت کو کانار کھت پسند کریں گے۔اگر انگریز علیسائی ہی رہیں۔یہور کی یہودی ہی رہیں۔ہندو ہندو ہی رہیں۔تو اسلامی حکومت دنیا میں قائم نہیں ہوسکتی۔ہاں اس کے قائم کرنے کا ایک طریق ہے اور اس طریق کے ذریعہ ہی دنیا میں ہمیشہ کام ہوا کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص کا نا ہو۔اور وہ کسی دوسرے سو جا کھے کی آنکھ نکال کر اپنے کالے پن کو دور کرنا چاہے تو سارے لوگ اُسے بیوقوف ہی سمجھیں گے۔کیونکہ دوسے کی آنکھ نکال کر اس کا کا نا پن دور نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر کوئی بے وقوف یہ سمجھے کہ چند انگریزوں کو بنا کر یا فتنہ و فساد پیدا کر کے وہ اسلامی حکومت قائم کر سکے گا۔تو وہ حماقت کا ارتکاب کرتا ہے۔پس یہ طریق بالکل نا درست ہے اور لیکن ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا ہوں۔لیکن جائز اور پر امن طریق سے اسلامی حکومت قائم کرنا ہمار ی دلی خواہش ہے۔اور یکن سمجھتا ہوں ہم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ آگ ہونی چاہیئے کہ ہم موجودہ طرز حکومت کی بجائے حکومت اسلامی قائم کریں۔یہ طبعی خواہش ہے اور میرے دل میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔اور میں نے اس خواہش سے کبھی انکار نہیں کیا۔ہاں میرے اور عام لوگوں کے ذرائع میں اختلاف ہے۔میں اسلامی حکومت کے قیام کے لئے تبلیغی اور پرامن ذرائع اختیار کرتا ہوں۔اور وہ کہتے ہیں کہ اس کے قائم کرنے کا طریق مار پیٹ اور تمبر وتشدد ہے۔بہر حال یہ خواہش تو جب پوری ہوگی ہوگی اور یقینا ایک دن گوری ہوگی۔دنیا کی مخالفتیں اور دشمنوں کی