تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 314
پہنچا۔جہاں ایک سال ٹھیرنے کے بعد حضرت خلیفہ مسیح المصالح الموجود سے از سر نو طلاقات کر کے اور ہدایات لیکر واپس ایطالیہ پہنچا۔جہاں با وجود مشکل اور ناموافق حالات کے ۱۹۵۵ء تک فریضہ تبلیغ کو بجا لاتا رہا۔۔۔اس دس سالہ عرصہ میں امان اللہ خان سابق بادشاہ افغانستان، شام ایران، ملکہ الزبیتھا اور اُن کے خاوند پرنس فلپ اور ڈاکٹر احمد سکار نو تک بیغام احمدیت پہنچانے کا موقعہ ملا۔اسی طرح الطالوی جمہوریت کے رہنے پہلے صدر انیر یکو دے تکولا صاحب سے۔اور چند سال بعد دوسرے صدر گرو کی صاب سے بھی ملاقات ہوئی۔نیز امریکہ۔انگلستان - مراکو - لیبیا۔سومالیہ۔مشرقی افریقہ۔آسٹریلیا۔جنوبی افریقہ - مینیگال - ماریشن سپین - لڑکی - ایران - البانیہ - یوگوسلاویہ۔ہنگری اور سوئٹزرلینڈ کے زائرین تک جماعتی اور انفرادی نہنگ میں ملاقاتیں کر کے پیغام احمدیت پہنچانے کی توفیق ملتی رہی۔الحمد لہ علی ذالک فصل چهارم حضرت مولانا شیر علی صاحت کا اس سال کے اوائل کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولوی شیری حیات ور فروری تنہا اپنے کو انگلستان تشریف لے گئے اور ساڑھے نہیں سفر انگلستان سال تک قیام فرما رہنے کے بعد ہر نومبر کو قادیان میر واپس تشریف لائے۔حضرت مولانا شیر علی صاحب نے بڑھاپے کے با وجود یہ لمبا سفر صرف ترجمة القرآن انگریزی کی تکمیل کے لئے اختیار فرمایا۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی فرمایا کہ مولوی شہر علی صاحب اس مرض کے لئے ولایت جارہے ہیں تاکہ وہاں جا کر وہ قرآن کریم کے ترجمہ کی انگریزی زبان کے لحاظ سے مزید نگرانی کر سکیں۔اس بات کی قرآن مجید کے نوٹوں کیلئے بھی ضرورت ہے۔مگر ترجمہ کے لئے زیادہ ضرورت ہے۔کیونکہ ترجمہ میں یہ شکل پیش آتی ہے کہ اگر تحت اللفانز جمہ کیا جائے تو زبان بگڑ جاتی ہے۔اور اگر زیادہ واضح کیا جائے تو وہ ترجمہ کی حد سے نکل کر تفسیر بن جاتا ہے۔نہیں ضروری ہے کہ ماہر اہل زبان صحاب سے اس بارے میں مشورہ لے لیا جائے۔ہو سکتا ہے کہ وہ ترجمہ دیکھ کر کسی جگہ کوئی ایک ہی لفظ ایسا بتا دیں جو ایک فقرہ کا قائم مقام ہو سکے اور اس طرح ترجمہ مختصر ہونے کے باوجود زیادہ مطالب پر حاوی ہو جائے یا کوئی زبان کی غلطی ہو تو اسے دور کریں۔یہ کام جس وقت ہو جائے گا۔اس کے بعد ا الفضل ۲۸ فروری یه صفحه ۲ کالم : له الفضل اور نومبر ۱۹۳۹ صفحه ا