تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 313 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 313

حاضرین کو بتایا کہ وہ دور ایک مبارک دور تھا۔اور آپ میں سے غالباً اب کسی کو بھی یاد نہیں کہ آپ کے آباؤ اجدا مسلمان تھے۔کاش آپ میں سے کوئی ایک ہی اُس زمانہ کی یاد تازہ کر کے اسلام کی طرف متوجہ ہو ؟ اس پر ایک نوجوان آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں اس بات کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ اُسے سلسلہ کے عقائد اور اسلام کی ترقی کے حالات سے واقف کیا گیا تو اس نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمود" رکھنا پسند کیا۔دوسرے نوجوانوں پر اس کا گہرا اثر تھا اور اس نوجوان کے ذریعہ وہاں پر ہماری تبلیغ کے انتظامات ہوتے رہے۔MESSIANA شہر کی میونسل کمیٹی کے قریب پہنچے تو وہاں پر ایک فوٹو گرافر کی دوکان تھی۔جس کے اندر جا کر دریافت کیا کہ فوٹو تیار کر کے جلدی دید بینگے۔اسپر یہ فوٹو گرافر ایک عجیب انداز میں کشکی لگائے کھڑا ہوگیا اور میے بار بار اصرار پر کہ فوٹو لے لیں حرکت میں نہ آیا۔آخر کار کہنے لگا۔فوٹو بعد میں لے لینگے مجھے آپ سے کچھ دریافت کرنا ہے۔عرصہ ہوائیس نے اور میری بوڑھی والدہ نے ایک ہی رات ایک ہی خواب دیکھی۔جس میں ایک جلیل القدر انسان حاضرین سے مخاطب ہو کر اسلام کی خوبیاں بتا رہے تھے۔آپ کے اردگرد اکثر اشخاص موجود تھے مگر اُن میں سے دو کی شکلیں مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ایک کا چہرہ گولی اور موٹے نقش تھے اور ہوس سے انسان کا چہرہ بہت نورانی تھا۔اور ان ہر سہ اشخاص کے قریب چوتھے مقام پر آپ موجود تھے۔باتوں باتوں میں اس جلیل القدر انسان نے آپکی طرف اشارہ کر کے یہ کہا کہ اگر ایطالیہ میں آپ لوگوں کو اسلام سمجھنے کی ضرورت ہوتو اس شخص سے اپنا رابطہ قائم کرلیں۔آپ چاہیں تو میں اپنی والدہ صاحبہ کو بھی یہیں بلا لیتا ہوں تا ہم بھی اس خواب کی تصدیق کر دیں۔چنانچہ آپکی والدہ صاب بھی ہیں پہنچ گئیں اور اس طریق پر آپنے بھی اسی بات کی تصدیق کی جو فوٹو گرافر صاحب نے بتائی تھی۔میں نے سلسلہ کا البم کھول کر سب سے پہلے انہیں حضرت مسیح موعود کا فوٹو دکھایا جس کے بارہ میں انہوں نے یہ بتایا کہ یہی و جلیل القدر انسان تھے۔بعد ازاں میں نے حضرت خلیفہ اول رضی الہ عنہ کا فوٹو دکھایا تو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ آپ ہی گول چہرے والے اور موٹے نقشوں والے ہیں۔اسکے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کی فوٹو دیکھ کر انہو نے بتایا کہ یہی وہ انسان ہیں۔جن کا چہرہ بہت نورانی تھا۔بعد ازاں جلد ہی اٹلی کا مشن بند کر دیا گیا اور ہر دو مجاہدین کو واپس مرکز میں بلالیا گیا۔گو یونی پاستور اٹلی میں اپنی رہائش جاری رکھی۔اور روزی کے ذرائع پیدا کر کے ۱۹۴۹ء میں ہوائی جہاز کے ذریعہ پاکستان