تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 312 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 312

۲۹۹ جانیں بچانے کی توفیق ملی۔اتحادی اقوام کے سپاہیوں کے البطالوی شہر فلارنس میں داخلہ کے موقعہ پر انہوں نے ہندوستانی کمانڈ تک مجھے پہنچایا۔میری احمدی بیوی سلیم ہی خاتون نے بھی قید کی خطرناک گھڑیوں میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔اور ہرقسم کے عموم و ہجوم میں شریک حال رہی۔ہندوستانی افواج کی بہتری و بہبودی کے کاموں میں نمایاں طور پر حصہ لینے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے دی۔چنانچہ انڈین آرمی ایجو کیش کے طور پر انکے ساتھ فرانس یونیوسٹی میں کام کرتا رہا۔اسی اثناء میں جماعت کے بعض اکابرین نے خدا کی دی ہوئی توفیق سے میری خبر گیری کی اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز زنگ میرے حالات پہنچائے۔ہندوستانی افواج کے ہمراہ جنگ میں کام آئے ہوئے سپاہیوں کی لاشیں جگہ بہ جگہ سے حاصل کر کے انہیں رفتانے کے کام میں مصروف تھا تو دائیں آنکھ پر سخت چوٹ آئی اور سر میں گہرا زخم ہو گیا۔اس کے نتیجہ میں دائیں آنکھ ہمیشہ کے لئے کمزور ہوگئی۔ایطالیہ مں ایک اتحادی کمیشن اس وقت موجود تھا۔اس کے ساتھ اپریل ۱۹۴۶ء تک با حسن وجوہ نہایت کامیابی کے ساتھ کام کیا۔اسی اثناء میں حضرت امیر المومنین خلیفتی الثانی ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیزہ نے دو مجاہدین (یعنی مسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل اور مولوی محمد عثمان صاب فاضل کو ایطانیہ کے لئے نامزد کر کے خاکسار کو از سرند ایطالیہ کے لئے امیر مقرر کیا۔ایطالبہ کے حالات کے پیش نظر سسلی کے علاقہ میں تبلیغ احمدیت کی غرض سے ان ہر دو مجاہدین کے ME S S IN A کے شہر میں بھیجا۔تا اُس حصہ زمین کے اُن انسانوں تک یہ پیغام پہنچایا جا سکے جو ایک وقت میں مسلمان تھے۔اور پالیرمو نامی شہر اسلامی تہذیب مرکز تھا۔اللہ تعالی نے محض اپنے فضل سے ہم سب کو اس بات کی توفیق بخشی کہ فریضہ تبلیغ کو حتی المقدور بجالائیں۔MESSIA شہر کے دورہ کے موقعہ پر جبکہ وہاں کی مقامی حکومت نے رد و مبلغین کو ۲ گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑ دینے کا حکم دیدیا تھا امامی بالائی حکام سے مل کر اور انہیں گذشته اسلامی شوکت اور شان کی یاد دلا کر اور ان کے اس رنگ میں اپنے ساتھ رشتہ کے تصور کے نتیجہ میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حکم کی تنسیخ کے کام میں کامیابی ہوگئی۔اس موقعہ پر دو ایمان افروز واقعات قابل ذکر ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ مسینہ کی بندرگاہ کے قریب ایک پرانے زمانے کی یادگار کے سامنے جو ایک مسجد سے مشابہت رکھتی تھی۔میں نے کھڑے ہو کر اسلامی دور کی یاد تازہ کرتے ہوئے سوز و گداز سے دعا کی تو ایک بھاری جمع کو وہاں پر کھڑے پایا۔میں نے ایطالوی زبان میں ہی حاضرین سے پوچھا کہ یہ کیا یاد گار ہے۔تو انہوں نے بتا یا کہ یہ پرانے زمانے کی ایک مسجد ہے۔اسپر وقت کے ساتھ میں نے