تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 9
4 نہیں بالکل ممکن ہے کہ تمہارے کندھے سے دشمن ہم پر حملہ کر دے۔پس جاؤ مجھ کو تمہاری ضرورت نہیں۔یہ وہ کام ہیں جن کا پورا کرنا میں قادیان والوں کے ذمہ اگلے خطبہ تک اور باہر کی جماعتوں کے ذمہ اس خطبہ کے چھپ کو پہنچنے کے ایک ہفتہ بعد تک فرض مقرر کرتا ہوں" تیسرا حکم مجھے فوراً جلد سے جلد ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو سلسلہ کے لئے اپنے وطن چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔اپنی بھانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں اور بھوکے پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف سے گزارنے پر آمادہ ہوں۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو نوجوان ان کاموں کے لئے تیار ہوں وہ اپنے نام پیش کریں۔نوجوانوں کی لیاقت کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یا تو وہ مولوی ہوں مدرسہ احمدیہ کے سند یافتہ یا کم سے کم انٹرنس پاس یا گر کچھ ایٹ ہوں۔۔۔۔۔شرط یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازم نہ ہوں اور نہ ہی تاجر ہوں اور نہ طالب علم ہوں۔صرف ایسے تو جوان ہوں جو ملازمت کی انتخاب میں اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ لے قربانی کا ماحول پیدا کرنے کا ارشاد امین احکام کے بعد صور نجات کو بھی بتایا کہ کئی بڑی قربانی میں حضور کے الفاظ یہ تھے :- نہیں کی جا سکتی جب تک اس کے لئے ماحول نہ پیدا کیا جائے اس سلسلہ کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ماحول ٹھیک ہو اور اگر گردو پیش کے حالات موافق نہ ہوں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں۔اُن کے اندر نیکی کرنے کا مادہ بھی موجود ہوتا ہے اور بعد یہ بھی، مگر وہ ایسا ماحول نہیں پیدا کر سکتے جس کے ماتحت صحیح قربانی کر سکیں۔پس ماحول کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے۔میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائزہ امر کی خواہش کی تو میں نے اُسے لکھا کہ یہ بیشک جائز ہے گر تم یہ سمجھ لوکہ تم نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور تم نے دین کی خدمت کا کام کرنا ہے اور یہ امر تمہارے لئے اتنا بوجھ ہو جائے گا کہ تم وین کی خدمت کے رستہ میں اُسے تباہ نہیں سکو گے اور یہ تمہارے رستہ میں مشکل پیدا کر دے گا۔تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ماحول پیدا نہیں کر سکتے ل " الفضل " ۱۸ نومبر ۱۹۳۳ء صفحه ۰۹