تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 296
اس کے علاوہ دو اور کتابیں بھی آپ نے شائع کیں جن میں سے فیصلہ قرآنی بہت مشہور ہوئی۔اس کتاب نے مخالفین پر احمدیت کا رعب بٹھا دیا۔یہ کتاب ایک تامل اختبار کے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی تھی۔اور اس کا ترجمہ کر اسکے تامل زبان میں شائع کی گئی تھی لیکے آپ کے بعد مولوی محمد سلیم صاحب برما بھجوائے گئے۔مولوی صاحب موصوف ۱۳ را پریل من ایر سے لیکر دسمبر تک بر ما مشن کے انچارج مبلغ رہے۔سن سے اخبار البشرى حیدرآبادسند کا اجراء اسلامی ایشیا میں سندھ کو جو اہمیت حاصل ہے کہ کسی سلمان سے پوشیدہ نہیں۔اس سر زمین کو نیاء احمدیت سے منور کرنے کے لئے ڈاکٹر عبد العزیز صاحب اخوند نے سندھی زبان میں حیدر آباد سندھ ے البشری نامی ایک پندرہ روزہ اخبار نکالنا شروع کیا جس کا پہلا پرچہ یکمی سایر کو شائع ہوا۔اخبار کے روح رواں ڈاکٹر صاحب موصوف ہی تھے۔مگر سرکاری ملازم ہونے کے باعث اُن کی بجائے مرزا امیر احد صاحب کا نام بطور پیر لکھا جاتا تھا۔البشری اگر چه صرف چودہ تک جاری رہ سکا۔مگر اس نے تھوڑے عرصہ میں سندھی صحافت اور عوام دونوں پر گہرا اثر ڈالا اور اس کے مضامین کو خاصی اہمیت دی جانے لگی تھی۔لکھنو میں احمدیہ دار التبليغ ) ور اگست ۱۹۳۵ء کو جماعت احمدیہ لکھنو کے دارالتبليغ اور دارالمطالعہ کا افتتاح کیا گیا۔اس تقریب پر مولوی محمد عثمان اور احمدی دارالمطالعہ کا انفتاح صاحب لکھنوی کی صدارت میں بارہ بجے شام ایک جلسہ بھی منعقد ہوا۔شو ہ اشتہار کے مالک کا نام ایمیم اسے کریم غلام ) GHULAM MA۔KARIM ) تھا۔ه محترم نسیم صاحب تامل زبان نہیں جانتے تھے۔اس لئے پہلے آپ نے ایک تامل جاننے والے سے اخبار کے مضمون کا انگریزی ترجمہ کرایا۔پھر اسے پیش نظر گھر کر مسودہ تیار کر کے ایک دو سر دوست پیسے ایسے ناسل میں منتقل کر ایا : اس رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ (۱۹۲۰۳ء صفحہ ۱۱ و ۱۲ جون ۱۹۵۶ء میں مجاہد تحر یک جدید سید منیر احمد صاحب باہرکی نے برمامشن کا احیاء کیا جس کی تفصیل 90ء کے واقعات میں آئے گی ، شے منتوطن مٹیاری تعلقه حاله ضلع حیدر آباد سندھ حال فضل عمر ہسپتال ریوه : له الفضل مر مئی ۹۳۵اء صفحه : کے ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب کا بیان ہے کہ تحریک جدید نے دو سو روپے دئے۔لیکن خریداری کے نہ ہونے کے سبب اخبار بند ہوگیایت کے الفصل ۴ در اگست ۳۹ وله ما کالم ۱۳