تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 283
پھر خوشنودی کا اظہار کرتا ہوں کہ کورنے اعلی درجہ کا کام کیا۔اور دعاکرتاہوں کہ خدا تعالی اسے اور نہ یادی خوبی سے کام کرنے کی توفیق دے لے دے ار نومبر و ای کو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے طلباء نے احمدیہ مبلغین کو اہم ہدایات کا ایک ایسوسی ایشن لاہور کے مہبروں کو جامعہ احمدیہ کے صحن میں دعوت دی۔جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہونے مبلغین کو نہایت اہم ہدایات دیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا کہ: قرآن کریم سے صراحتا معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص جماعت کو دین کی خدمت کا ذختہ دار قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيرُ وَ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ويَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرَ وأَوَلَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» (سوره آل عمران ) اور دوسری طرف فرماتا كُنتُم خَيْرٌ أُمَّةٍ اخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ سارے مومنوں کا فرض ہو کہ دعوت الی الخیر کریں تو ایک خاص جماعت کا ہونا ضروری ہے اور یہ لازمی چیز ہے۔کوئی فوج اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کا ایک حصہ خاص کام کیلئے مخصوص نہ ہو اور تمام نیچر میں یہی بات نظر آتی ہے کہ ایک ذرہ مرکزی ہوتا ہے۔مذہبی تبلیغ کیلئے بھی ایک ایسا مرکز ہونا چاہیے جو اپنے ارد گرد کو متاثر کر سکے اور دوسروں سے صحیح طور پر کام لے سکے۔یہی غرض مبلغین کی ہے۔لیکن عام طور پر خود میلعین نے بھی ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھا۔بیجھتے ہیں کہ وہ اسماری کے سپاہی ہیں اور کام انہیں خود کرتا ہے۔مگر جو یہ بھتا ہے وہ سلسلہ کے کام کو محدود کرتا ہے ہم خدمت دین کیلئے کسی قدر مبلغ رکھ سکتے ہیں۔اس وقت ساٹھ ستر کے قریب کام کر رہے ہیں جن کا جماعت پر الفضل ۲ جنوری ۶۱۹۳۶ صفحه ۵ - یادر ہے کہ ۱۳ نومبر شہداء سے 9 دسمبر ۱۹۳۵ء تک حاجی احمد خاں صاحب ایاز (مبلغ سنگری اور یوگو سلامہ یہ ہوتے سالار حیش کی حیثیت سے کام کیا۔اور اردسمبر شہداء کو مرزا گل محمد صاحب سالار جیش اور سید احمد صاحب افسر جیش بنائے گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اور دسمبر ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں مابعی احمد خان صاحب ایاز کی فرض شناسی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : " ہماری مساجد کے سائے پریذیڈنٹوں کو نیشنل لیگ کے ایک سال از جیش نے شکست دیدی اور ساتھ ہی اس احمدی لڑکے نے ثابت کر دیا ہے کہ جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے نوجوان موجود ہیں کہ جب کام کا وقت آئے تو خواہ حالات کچھ ہوں وہ کام پورا کر کے دکھا سکتے ہیں مجھے اس امر کا خیال کر کے کہ ہمارے نوجوانوں میں وہا روح موجود ہے کہ اگر اسے ابھارا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن میں ایسے افراد موجود ہیں جو ہر قربانی کرکے کام کو پورا کر دینگے۔اس قدر خوشی ہوتی ہے کہ جیسے کہتے ہیں۔فلاش شخص کو بادشاہت مل گئی این رالفضل ۱۲ر دسمبر ۱۹۳۵ در صفحه ۶ کالم ۲)