تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 282
۲۶۹ کے سپر د مقامات مقدسہ اور تمام شعائر اللہکی حفاظت کا کام کیا گیا۔بر نظام قریباً چار دن تک جاری رہا۔اور اس میں کور کے تمام افسر اور رضا کار دونوں شب روز مصروف رہے جس پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی سن نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ پچھلے چار دنوں میں جو کام آپ لوگوں کو مرکز سلسلہ کی حفاظت کیلئے کرنا پڑا ہے میں اسکے متعلق۔۔۔خوشنودی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ جین نیت اور فرض کے ما تحت آپ لوگوں نے یہ کام کیا ہے۔اسی نیت اور غرض کے مطابق اللہ تعالیٰ آپسے نیک سلوک فرمائے لیے علاوہ ازیں والنٹیر کور نے ۲ دسمبر شراء سے جمعہ کے دوران حضرت امیر المومنین کے پہرہ کا انتظام بیاہ راست اپنے ذمہ لے لیا جو سالہا سال تک باقاعدگی سے جاری رہا۔۲۳؍ دسمبر ۱۹۳۵ء کو فیصلہ کیا گیا کہ سالانہ جلسہ پر کور کے رضا کار، مسجد مبارک ، قصر خلافت، بہشتی مقبرہ، مردانه جالسه گاه زنانه جلسه گاه اور خلیفہ وقت کی حفاظت کے لئے مقرر کئے جائیں۔رضا کاروں نے یہ خدمات اتنے خلوص اور جانفشانی سے ادا کی کہ حضرت امیر المومنین نے نے ۳۰ دسمبر راء کو اسپر مبارکباد دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیںکہ کور کا کام قریب ترین عرصہ میں شروع ہوا ہے۔اتنے قریب کے وقت میں شروع ہوا کہ اتنے عرصہ میں ایک پاہی کو بندوق پکڑنے کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا۔کجا یہ کہ اسے کسی خدمت پر مقرر کیا جائے۔اگر با وجود اسکے اس موقعہ پر جس محنت، جس جانفشانی اور جس سرگرمی سے میل لنگ کر کے مہروں نے کام کیا ہے۔چھوٹوں اور بڑوں نے کیا ہے۔افسروں اور ہاتھوں نے کیا ہے۔وہ اس قابل ہو کہ کور کو مبارکباد دیجائے۔اور کو ر اس بات کی مستحق ہو کہ جماعت اسکے لئے ڈھا رہے۔میں نے دیکھا ہو کہ اس تنظیم کے ماتحت کی مشن کا پوری را کور کا بھی موقعہ نہیں مالی سال کے موقعہ پر کور کے تھوڑے سے آدمیوں نے اتنا کام کرکے دکھایا ہے جو کہ پہلے بہت سے لوگ نہ کرسکتے تھے۔جلسہ گاہ میں میرے جانے کے وقت رستہ کو صاف رکھنا اور نجوم کو روکنا قریباً نا قابل حل سوال ہو چکا تھا۔مگر اسکے والنٹیٹرز کورنے ایسی عمدگی سے اسے حل کیا ہے کہ کسی ایک موقعہ یہ بھی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔اور شکایت کا پیدا ہو نا تو الگ رہا۔شکایت کا امکان بھی پیدا نہیں ہوا۔اس موقعہ پر چین نوعیت کا کام تھا اسکے لحاظ سے کور اس قدر بوجھ پڑا جو انتہائی تھا۔لیکن میں خوش ہوں کہ اس موقعہ پر کور نے ہمت ، دیانت اور استقلال سے کام کیا۔۔کور کا یہ سین انتظام جس کی میں نے تعریف کی ہے اور جو تعریف کے قابل ہے۔اس میں بڑی بات یہی ہے کہ کور کے ممبروں کو محسوس کرا دیا گیا ہے کہ افسر کی اطاعت ضرور کی ہے۔۔۔۔آخر میں میں الفضل ۲۷ نومبر ۱۹۳۵ و صفحها