تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 280
ڈ برابرہان پہنچ گیا۔میںاپنے گھر بن کر گیا تھا کہ چند روز موجب ارشاد حضرت صاحب تبلیغ کیلئے بیرونی مقام پر جاتا ہوں جو مخالفت کا گڑھ ہے وہاں قتل بھی کردیا کرتے ہیں۔اگر میں وہاں خدا نخواستہ قتل بھی ہوگیا تو تم کواللہ تعالی ہاجرہ جیسی عربیت قرب الہی میں بنے گا۔گھرانے کی کوئی بات نہیں۔4-4 سال کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ آسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے کار ڈلکھا کہ صرف ایک ماہ کے لئے پاکستان چھٹی پر تم کو آنے کی اجازت ہے سوفہ دری اور میں خاکسار پہلی با رتبہ آیا۔حضور نے فرمایا کہ واپس ایسے سینیا جاؤ۔شاہ حبشہ کو ہمارا لٹریچر پہنچے گا تم اسے پہنچانے کا بند بست ہمارالٹر کرنا۔جولائی میں وہاں کے پادریوں نے شکایات کیں کہ احمدیت کا نفوذ پڑھ رہا ہے۔اس ڈاکٹر کو ملک سے باہر نکال دیا جائے۔سو مجھے حضرت امیر المومنین نے تارونی ) PROCEED TO NAIROBI - BETTER کہ نیرہ ہی چلے جاؤ۔خاکسار سال میں نیروی پہنچا۔اور تر میں وہاں سے ولایت مزید تعلیم کے لئے چلا گیا۔جس کے حصول کے بعد کامیاب ہو کر جلسہ سالانہ قادیان و ربوہ شاء میں پہنچا ها ۱۹۶ء انشادرمانی ۲۰ ستمبر ۱۹۳۵ء کا دن جماعت احمدیہ کے لئے نوشی اور شادمانی کا تھا۔حضرت امیر المومنین کی شادی ان کا ان کا کیونکہ اس روز حضرت امیرالمومنین خلیفة المسیح الثانی من کا عقد ر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کی دختر نیک اختر ) سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہ پر والی اعلان نکاح حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے کیا ہے حضرت امیر المومنین کی طرف سے ۱۲ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو بوقت 11 بجے دن قادیان اور مضافات کے عض دیہات کے قریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب کو مسجد اقصی میں دعوت ولیمہ دی گئی۔جس کیلئے دعوت نامہ حضرت ڈاکٹر محمد طفیل خان صاحت نے جاری کیا ہو ایک چھوٹے سے دبیزی کا غذ پر ك ۶۱۹۳۵ الحکم اور ستمبر 19 یہ صفحہ ۳ اے غیر مطبوعہ مکتوب سے ماخوذ سه پوره خطبه الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۱ و۲ پر چھپ چکا ہے۔له الفضل ۴۳ اکتوبر ۱۹۳۵ ۶ صفحه ۲ کالم ۲ -