تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 279
MY چالیس آدمیوانی بو مختلف گاؤں کے رہنے والے تھے ایک دن بیعت کی اور سلسلہ احمدیہ یا شامل ہوئے حبشہ میں ڈرائیو ان کے شہر کے ایک لڑکے رضوان عبد اللہ احمدی کو میں نے واقعت زندگی کے طور پر رتبہ تعلیم کیلئے ہوائی جہاز پر بھیجا جو وہ مںتعلیمی اور عربی اور دینی ماحول میں بہت مقبول ہو گئے لیکن بد قسمتی سے ۲-۳ سال تعلیم جامعہ احمدیہ میں حاصل کرتے ہوئے دریائے چناب میں لڑکوں کے ساتھ پینو له کرتے ہوئے پاؤں کے پھسل جانے سے غرق آب ہو کر شہید ہوئے مقبرہ بہشتی ہیں انکی قبری ہوتی ہے۔ایک رمضان بی ریا ایران شہر کا موسم میں جاکر یں نے تبلیغ شروع کردی۔سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ساری مسجد بھر گئی۔وہاں کے عربی ملاں نے لوگوں کو اکسایا اور خاکسار پر انہ کیاگیا اور یکدم دوگروہ بن گئے۔ایک گروہ میری تائیدیں اور دوسرا میرے بالمقابل آخر مجھے سجدیں سے نکلنا پڑا۔قتل قتل کے نعرے لگے۔بازار تک مجھے جھکیلتے ہوئے لے گئے عربی میں آوازے کستے رہے کہ آج اس ہندی قادیانی کا خاتمہ اور خون بہا دیا جائے گا۔ساری رات میرے ایک دوست کا مکان جس میں مجھے پناہ لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔گھیرے میں رکھا گیا۔دوسر روز یکی مصلحتی لباس بدل کر واپس شیشن پر پہنچا اور ٹکٹ لیکر واپس اپنی ڈیوٹی پر نے بیعت کرنے والوں میں ہر شہر کے تین دوست بھی تھے جو جنوری شہداء میں داخل سلسلہ ہوئے۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحد با ان اصحاب کی بیعت کی مرکزہ ہیں، اطلاع دیتے ہوئے یہ رپورٹ بھی بھیجوائی کہ چند روز کا یہ اقعہ ہے کہ ہمارے مذکورہ بالا تین تو مبایعین غلطی سے غیر احمدی لوگوں کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے پہلے گئے۔میں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میراحمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔وہ سنتے ہی میرے پاس پہلے آئے۔اس سے ہمارے مخالفین میں اشتعال پیدا ہو گیا اور مجھ پر محکم قضا میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا کہ میں نے اُنکے دو ہرری مسلمان چرا لئے ہیں اور کہ اُن کی نماز کی ہتک کی ہے۔آخر مجھے بلایا گیا اور لوگوں کے سامنے تحقیقات شروع ہوئی۔جب ہمارے خلاف مبالغہ آمیز اور جھوٹی شہادتیں ہوئیں تو حاضرین میں سے ہی دو عرب بول اٹھے اور قاضی اور حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ عیسی کو آسمان پر زندہ مانتے ہو جو سول له صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہتک سے واقعی آپ لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں (الفضل ، مارچ ها و صفحہ ہم کالم ۳ و ۴) اوائل ا ء کا واقعہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ذریہ سے قید خانہ میں دنش آدمی بیعت کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے جو بیعت کے دوسرے روز ہی رہا ہو گئے۔(الفضل در مئی سے مایہ صفحہ ۲ کالم ۳) ه تاریخ وفات ۲۶ اگست ۱۹۵۳ - " ۱۹۴