تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 274
۲۹۱ فصل پنجه حبشہ ( ابی سینیا) میں ڈاکٹر اسلام کی تورانی مائیں بہ اعظم افریقہ کے میں خطہ پر سب سے پہلے پڑیں وہ حبشہ رابی سینیان کا ملک ہے۔عہد نبوی کے لگی دور میں جب نذیراحمد صاحب کی تبلیغی خد ا ا ا ا ا ا ا ا ا ام ام ایمان کا لالی انتہا کو پہنچ گئیں اور قریش کے مظالم ناقابل برداشت ہو گئے تو آنحضرت صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرجائیں، نیز فرمایاکہ حبشہ کا شاہ عادل منصف ہے۔اسکی حکومت میں کسی نظلم نہیں ہوتا یہ چپٹ نچھ اس ارشاد نبوی کے مطابق ماہ رجب شده و مطابق نومبر دسمبر میں گیارہ صحابہ اور چار صحابیات جهش کی طرف ہجرت کر گئے۔ان مظلوم مہاجرین میں حضرت عثمان بن عفان اور ان کی حرم حضرت رقیہ کا بنت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد الرحمن بن عوف - حضرت زبیر بن العوام ، حضرت ابو حذیفہ بن عقبہ حضرت عثمان بن ملعون حضرت مصعب بن عمیر حضرت ابوسلم بن عبدالاسد اور ان کی زوجہ حضرت ام سلمہ منی اله عنہم کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں کہ حبشہ کی حکومت نے مہاجرین کو پورا پورا امن دیا اور انا شیخ سے ته صرف نجاشی مسلمان ہو گیا بلکہ بعض عمائد مملکت بھی اسلام لے آئے۔حکومت بشہ کا یہ ایسا عظیم الشان احسان ہے کہ ملت اسلامیہ اسے قیامت تک فراموش نہیں کر سکتی۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ نے اسی جذبہ شکر سے لبریز ہوکر است شام میں ڈاکٹر نذیر احمدیت ابن حضرت ماسٹر عبد الرحمن صاحب سابق مہر سنگھ) کو حبشہ جانے اور اہل معیشہ کی خدمت کرنے کا ارشاد فرمایا۔یہ وہ ایام تھے جبکہ امی اور حبشہ کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی۔اہل حبشہ بری طرح پسپا ہو رہے تھے اور انٹی جنگی امداد کے علاوہ طبعی امداد کی بھی بہت ضرورت تھی۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اے ابن ہشام و طبری و سیرت خاتم النبيين حصہ اول من الموقف قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حبشہ کا ملک ہو انگریزی میں ایتھوپیا یا ایسینیا کہلاتا ہے۔براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔آنحضرت کے زمانہ میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی جس کا بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا اور جہد نبوی کے بجاشی کا ذاتی نام محمد تھا۔ه ابن سعد - ابن هشام زرقانی بحوالہ سیرت خاتم النبیین حققه اول ۱۹ -