تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 272
ادا کی۔۲۵۹ یہ فقرات پڑھو کہ ہمیں اصل حقیقت منکشف ہوگئی۔کہ نماز جیو کا ترک حکومت کے منع کر نہیں ہوا۔جبکہ حکومت نے جو بند انکا یہ احرار کو قادیان میں جانے سے روک دیا تھا۔اس جنگ میں نماز جمعہ کو ترک کیا گیا۔اس لئے ہم اپنے قصورعلم کا اعتراف کرتے ہوئے اس فعل (ترک نماز جمعہ) سے برأت کا اعلان کہتے ہیں کہ یہ فعل شرعی ہدایت کے ماتحت نہیں ہوا چونکہ اقدار سیاسی جماعت ہے ان کے خیال میں سیاست کے رُو سے شاید بجائزہ ہو۔اہم غفرانا " کے » مولوی عبد الغفار صاحب غزنوی نے فتوی دے رکھا تھا کہ کسی خاص جگہ زنده خدا کا زندہ نشان نما نہ پڑھنا ضروری نہیں۔لیکن جب اس جگہ پر پابندی عائد کر دی جائے تو نماز پڑھنا ضروری ہو جاتا ہے اسلئے ہر سلمان کا فرض ہے کہ قادیان میں جا کہ نماز جمعہ ادا کر تے۔سنہ اس فتوی کی تعمیل میں امیر شریعت احرار » مولوی عطاء اللہ شاہ صاب بخاری اور دسمبر سر کا جمعہ " پڑھنے کیلئے قادیان روانہ ہوئے مگر حکم امتناعی کو توڑنے کے سبب جینتی پورہ اسٹیشن پر گرفتار کر لئے گئے۔اور عدالت گورداسپور سے چار ماہ قید کی سزا پائی۔سکے یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی واقعہ تھا گو جیسا کہ حضرت خلیفتہ ایسیح الثانی رضانے اور دسمبر دار کے ایک مضمون میں بالتفصیل بتایا۔اسے احمدیت کی صداقت پر زندہ خدا کا ایک زندہ نشان قرار دینا چاہیئے۔و یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کو عالم رویاء میں امیر شریعیت احرار کے دو بار حمل اور پھر چار ماہ کیلئے قید ہونے کا نظارہ وسط نومبر سنہ میں دکھایا گیا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ایک مقام پر میں کھڑا ہوں تو ایک شخص آکر چیل کی طرح جھپٹا مار کہ میرے سر سے ٹوپی لے گیا پھر دوسری بار حملہ کر کے آیا کہ میرا عمامہ بے جا دے۔مگر میں اپنے دل میں مطمئن ہوں کہ یہ نہیں لے جا سکتا۔اتنے میں ایک مخیف الوجود شخص نے اسے پکڑ لیا۔مگر میرا قلب شہادت دیتا تھا کہ یہ شخصی دل کا صاف نہیں ہے اتنے میں ایک اور شخص آگیا جو قادیان کا رہنے والا تھا اُس نے بھی اُسے پکڑ لیا۔میں جانتا تھا کہ مؤخر الذکر ایک مومن منتفی ہے۔پھر اُسے عدالت میں لے گئے تو حاکم نے اُسے جاتے ہی ۴ یا ۶ یا ۱۹۳۵ ہے۔اہلحدیث امرتسر ۲۹ نومبر ۳۵ رد ص۱۲۰۲ : " ه اخبار پرتاپ در دکبر شراء بحواله اخبار الفضل ۲۰ دسمبر لاء صبا کالم سے ہے گے۔اخبار اہلحدیث امرت سر ۱۳ دو نمبر ۳ اور منا کالم ۲۲۰ +