تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 269 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 269

۲۵۶ نے قسم شارع کر دی ہے۔تاکوئی یہ نہ کہ سکے کہ ماہ سے ڈر گئے ہیں۔اسی طرح اگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت سیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو عوز باللہ من ذلک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھتے تھے۔بلکہ آپ پر ایمان نہ رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ سورہ کی عظمت آپ کے دل میں نہ تھی اور آپ چاہتے تھے کر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نعوذ باللہ من ذالک اینٹ سے اینٹ بج بجائے (نصیب دشمناں، اور یہ کہ جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو کیوں احرار کے لیڈروں نے میرے الفاظ کے مترادف الفاظ میں بہا مقابل قسم شائع نہیں کر دی۔اگر وہ بھی قسم کھاتے تولوگوں کو پتہ مل جاتا کہ وہ بھی سیاہ کیلئے تیار ہیں۔یا پھر پیش کردہ شرائط ہی شائع کر دیتے اور لکھ دیتے کہ ہمیں یہ منظور نہیں لے حکومت پنجاب کا نوٹس وا ت ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا اور کہا کہ ہمیں خود اہم بات احمدیہ نے قادیان آنے کی دعوت دی ہے اس ہمارے قادیان جانے میں کوئی روک نہیں ہونی چاہیے احرار کے حق میں تھے اور اس قضیہ میں غیر جانبدار رہنا چاہتے تھے مگر جب حضرت خلیفہ مسیح الثانی نمونے خود احرار کے اشتہارات سے ثابت کر دکھایا کہ احرار مباہلہ کا نام ہے کہ در پردہ کا نفرنس اور ہنگامہ آرائی کے لئے آرہے ہیں تب اُن کا نظریہ بھی بدل گیا اور حکومت پنجاب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی گرفت پر اپنے بنائے ہوئے قانون کے احترام پر مجبور ہو گئی۔اور اس نے ۱۶ نومبر کو ایک نوٹس جاری کر دیا جس میں ۲ جولائی منشاء کے فیصلہ کی روشنی میں ۲۴-۲۳ نومبر کو قادیان میں اجتماع پر بھی پابندی لگادی اور لکھا کہ اگر مجلس احرارا در احمدیہ جماعت کے نمائندے حکومت کو بصورت تحریر یقین دلا دیں کہ اجتماع کی غرض و غایت کی نوعیت پر فریقین کا اتفاق ہوچکا ہے تو اس صورت میں حکومت اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔احترار کی درخواست یہ نوٹس لے پر چناب مظہر علی صاحب اظہر جنرل سیکرٹری احرار نے چیف سیکرٹری صاحب پنجاب کو ایک درخواست بھیجی جس میں یہ عذر تراشا کہ ہم لوگ قادیان اور حکومت کا جواب میں جمعہ پڑھنے کیلئے جانا چاہتے ہیں۔حالانکہ قادیان میں جمعہ پڑھنے کی کوئی خاص و جہ احرار کے لئے نہ تھی مخصوصا ایسے لیڈروں کیلئے جن میں سے بعض تارک نماز مشہور تھے۔تاہم سٹر اظہر نے اپنی درخواست میں لکھا کہ مجلس احرار کی یہ منشاء نہیں ہے کہ قادیان میں کسی مرض کے پیش نظر کوئی ے۔الفضل ۱۸ر د کبری ۱۳ درصد کالم ۲-۳ الفضل ۱۹ نومبر لامہ صابن کے۔الفضل ۲۱ نومبر ۳۵ 19 منٹ کالم ملتا ہے