تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 264
۲۵۱ محبت کا فیصلہ کرنے کے لئے لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کر لیں۔۲۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے دعوی سے متعلق مباہلہ کے چیلنج کو حضرت خلیفہ ایسیح کی طرف منسوب کیا۔حالانکہ یہ چیلنج خود احرار کی طرف سے تھا۔۳- صدر مجلس نے کہا کہ مرزا محمود نے قادیان اگر مباہلہ کرنے کا چیلنج دیا۔حالانکہ یہ تجو یا حراس کی تھی حضرت خلیفہ مسیح اشانی نے تو احرار کے اصرار پر قادیان کو مقام مباہلہ قرار پانے کی اجازت دی تھی۔جنرل سیکرٹری صاحب احرار کے فقرہ سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ گویا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ مباہلہ قادیان میں ہی ہونا چاہیئے۔اور بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے متعلق ہی ہونا چاہیئے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہتا کے الزام کے متعلق بیس کا مطلب یہ تھا کہ گو یا حضور نے مصل بنائے مباہلہ کو ترک کر دیا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط تھا۔حضور نے کبھی بنائے سائل کو نظر انداز نہیں ہونے دیا بلکہ اس کے برعکس یہ واضح اعلان فرمایا کہ ہم احرار سے صداقت مسیح موعود پر بھی مباہلہ کرنے کو تیار ہیں بیشتر میکہ یہ مباہلہ پہلے مباہلہ سے الگ ہو اور اس کے لئے الگ پانچ وہ آدمیوں کی تعداد دونوں فریقوں کی طرف سے پیش کی جائے لے احرار کی یہ حرکت بہت افسوسناک تھی۔مگران خدا نا نیں لوگوں نے مزید ظلم وستم یہ کیا کہ مباہلہ کے نام پر قادیان میں ہنگامہ بر پا کرنے کی تیاریاں شروع کردیں اور تصفیہ شرائط سے گریز کر کے ملک بھرمیں یہ عام تحریک کرنے لگے کہ لوگ ۲۳ نومیت شدید کو ہزاروں کی تعداد میں قادیان پہنچیں اور تو اور خود صدر مجلس احرارہ پنچا نے چنیوٹ کا نفرنس میں بیان دیا : ۲۳ نومبرکو زعمائے احرار اور ہزاروں مسلمان قادیان کے میدان سابلہ میں پہنچ جائیں گئے۔اس اعلان سے یہ بات واضح طور پر کھل گئی کہ احرار مباہلہ نہیں مہنگامہ کی تجویزیں سوچ رہے تھے۔اس خیال کی مزید تائید مسٹر مظہر کی صفات اظہر کے مندرجہ ذیں بیان سے بھی ہو گئی کہ " پانچ سو اور ہزالہ کی شرط خود مرزا صاحب کی عائد کردہ ہے ہمارے نمائندے ہزار سے بھی بہت زیادہ ہوں گے " کے میناب مظہر علی صاحب اظہر نے محض نمائندوں کی غیر معین اور کثیر تعداد کا ذکر کرنے کے علاوہ اپنے اس بیان میں مباہلہ کی درپردہ اغراض خود اپنے قلم سے بے نقاب کر ڈالیں۔چنانچہ انہوں نے لکھا: ۱۹۳۵ ے۔مضمون حضرت خلیفہ اسح اخانی ( الفضل ۱۰ار نومبر ۱۹۳۵ ، ص ۲ : انجبار تجاہد اور نومی رحت الجواله ޅ بفضل ارنوبی شامل ہے۔اخبار مجاہدہ نومبر ۱۳۵ رمٹ بحوالہ الفضل ، ارنومبر و صلہ کالم ہے