تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 254 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 254

۲۴۱ اور اتنی با اثر جماعت پانسو یا ہزار آدمی ایک محلہ سے جمع کر سکتی ہے۔ہاں اپنی جماعت کے دوستوں کی سہولت کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ مباہلہ کے دن کے فیصلہ کا اعلان پندرہ روز پہلے ضرور ہور بھانا چاہیے کیونکہ ہماری جماعت کے دوست دُور دُور سے اس میں شامل ہو نیکی خواہش کر یں گے اس لئے جس وقت ان کا آدمی ہمارے آدمی سے گفتگو کرے اور ضروری امور کا تصفیہ ہو جائے اس کے پندرہ روز بعد مباہلہ ہو نے لے شرائط مباہلہ میں حضرت امیر المومنین چون دل سے چاہتے تھے کہ کسی طرح احرار میدان مباہلہ تغیر تبدیل کی پیشکش میں آجائیں اور مک میں فیصلہ کی سائبر ہو جائے۔لہذا آپ نے مباہلہ کی اپنی شرائط پر اصرار کرنے کی بجائے اعلان کر دیا کہ :- میں ہر گنہ اس بات کا مدعی نہیں کہ جو شرعیں مباہلہ کے متعلق میری طرف سے پیش کی گئی ہیں ان میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔میرے نزدیک دوسرے فریق کو کامل حق ہے کہ وہ اعتراض کہ کے مثلاً ثابت کر دے کہ فلاں شرط شریعیت کے خلاف ہے یا فلاں شرط نا من العمل ہے یا فلاں شرط جو پیش کی گئی ہے اسے بہتر فلاں شرط ہو سکتی ہے۔یہ تینوں حق احرار کو حاصل ہیں اور اگر وہ کسی وقت بھی ثابت کر دیں کہ میری پیش کردہ شرائط شریعت کے خلاف ہیں یا عملی لحاظ سے ناممکن ہیں یا ان سے بہتر شرائط فلاں فلاں ہیں تو میں ہر وقت ان شرائط میں تغیر و تبدل کرنے کے لئے تیار ہوں" سے مسائلہ ٹالنے کے لئے حضرت خلیفہ ایسی انسانی کا پینج جماعت احمدیہ کی طرف سے بڑے بڑے پوسٹروں اور پمفلٹوں کی صورت میں بکثرت شائع کیا جارہا تھا کہ احرار کھانا پسندیدہ رویہ اور حضور کے نمائندگان محلوں پر خط اتوار لیڈروں کے نام سکھ رہے تھے مگر احرار لیڈر مباہلہ پر آمادگی کا پراپیگنڈا کرنے کے باوجود تصفیہ شرائط کے بارے میں بالکل چُپ سادھے بیٹھے تھے۔ہاں یہ ضرور تھا کہ وہ گاہے گا ہے کسی مولوی کے نام کے ساتھ لیے پوڑے القاب درج کر کے اُسے قادیان بھجوا دیتے جو مسجد ارائیاں میں ساٹھ ستر افراد کے درمیان کھڑے ہو کر کہہ جاتا کہ مرزائی فرار کر گئے۔حالانکہ نہ شرائط کا تصفیہ کیا نہ تاریخ مباہلہ کی تعیین ہوئی اور نہ نمائندگان جماعت کو کوئی تحریر کی جواب دیا گیا۔شہ له - الفضل اس نمبر ۳ م ج له الفضل پور وکتور پر اس دار وحدت کالم موت ہے۔ایضاحت کے ه الفضل در اکتوبر ر و ه - الفضل در اکتو بر اره مست کالم ۲-۳ +