تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 253 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 253

۲۳۰ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ،چوہدری اسد اللہ خانصاحب بیر سٹرا : در مولوی غلام احمد صاحب مو لو یا قتل مبلغ جماعت احمدیہ کو اپنا نمائندہ مقرر کر دیا کہ ان سے احرار کے نمائندے ضروری امور کا تصفیہ کر لیں اور تصفیہ شرائط کے پندرہ روز کے بعد مباہلہ ہو جائے۔تا مباہلہ کرنے والوں کو بروقت اطلاع دی جا سکے لیے نمائندگان کے تقرر کے ساتھ ہی حضور نے یہ وضاحت بھی فرمائی کہ : میری طرف سے چیلنچ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے کوئی معقول آدمی رو کرکے ان کا مرکز لاہور ہے اور میں نے تسلیم کر لی ہے کہ ہم وہاں آجائیں گے گورداسپور پر انہیں بہت فخر ہے اور میں نے کہدیا ہے کہ ہم وہاں آجائیں گے۔پھر ہم نے ان پر دوسری مسلمانوں میں سے کسی شخاص شخصیت کو پیش کرنے کی قید نہیں لگائی۔جماعت احمدیہ کا امام مباہلہ میں شامل ہو گا۔اس کے بھائی ہوں گے۔صدر انجمن کے ناظر ہوں گے اور تمام بڑے بڑے ارکان ہوں گے ان کے علاوہ پانسویا ہزار دو سر مزنہ افراد جماعت بھی ہوں گے۔احرار کے متعلق میں نے صرف یہ کہا ہے کہ احرار کے پانچ لیڈریعنی مولوی مظہر علی صاحب اظہر - چودھری افضل حق صاحب ، مولوی عطاء اللہ صاحب ، مولوی داؤد غزنوی صاحب اور مولوی حبیب الرحمن صاحب ہوں گے گویا ہم ان سے جو مطالبہ کرتے ہیں۔اس کے زیادہ پابندی اپنے اوپر لگاتے ہیں۔ان میں خلیفہ کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی خلافت باقی ہے۔لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے خلیفہ ہوگا اور ذمہ دار ارکان ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے مرد ممبر ہوں گے اور اسکے مقابلہ میں ان کے صرف پانچ لیڈر میں نے ضروری رکھتے ہیں۔باقی جن کو بھی وہ اپنا نمائندہ بنا کر لائیں گے۔ہم ان کو مان لیں گئے۔اس میال میں تقریریں کا بھی اتنا سوال نہیں۔کیونکہ یہ کوئی مسئلہ نہیں بلکہ واقعات ہیں اور صرف پندرہ منٹ اپنے عقیدہ کے بیان کے لئے کافی ہیں۔پندرہ منٹ میں ہم اپنا عقیدہ بیان کر دیں گے اور اتنے ہی عرصہ میں وہ کہہ سکتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں غلط ہے۔حقیقتاً یہ ایسا نہیں مانتے اس میں دلائل وغیرہ کی بھی ضرورت نہیں یہی تفصیلات کی ضرورت مسائل میں ہوتی ہے۔لیکن یہ مباہلہ واقعہ کے متعلق ہے۔وہ کہتے ہیں احمدی رسول کریم صلی علہ علیہ وسلم کی مہک کرتے ہیں اور مکہ مکرمہ کی عزت نہیں کرتے۔اور ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے۔باقی رہے مباہلہ میں شامل ہونے والے آدمی سو ہم نے کسی چھوٹی موٹی جماعت کو چیلنج نہیں دیا بلکہ آٹھ کر دو مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ جماعت کو دیا ہے۔Jaro الفصل 19 رستم مد *