تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 252
۲۳۹ اور ہما رے ہوئی بچوں پر عذاب نازل کر۔اسکے بعد اللہ تعالی کی طرف سے خود بخود فیصلہ ہو جائیگا کہ کون سا فریق اپنے دعوئی میں سچا ہے۔کون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی عشق رکھتا ہے اور کون دوسرے پر جھوٹا الزام لگاتا ہے۔مگر شرط یہ ہوگی کہ عذاب انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور ایسے سامانوں سے ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جا سکیں " اے خانہ کعید کی حرمت و عظمت کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی حضور نے دعوت مباہلہ دی چنانچہ فرمایا:- اس لئے بھی وہی جو یہ پیش کرتا ہوں جو پہلے امر کے متعلق پیش کر چکا ہوں کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے آئیں اور ہم سے مباہلہ کرلیں ہم کہیں گے کہ اسے بعد مکہ اور مدینہ کی عظمت ہمارے دلوں میں قادیان سے بھی زیادہ ہے ہم ان مقامات کو مقدس سمجھتے اور ان کی حفاظت کے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اسے خدا اگر ہم دل سے یہ نہ کہتے ہوں بلکہ تھوٹ اور منافقت سے کام لیکر کہتے ہوں اور ہمارا صل عقیدہ یہ ہو کہ مکہ اور مدینہ کی کوئی عزت نہیں یا قادیان سے کم ہے تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر اسکی مقابلہ میں احرار اٹھیں اور وہ یہ قسم کھا کر کہیں کہ نہیں یقین ہے کہ احمدی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دشمن ہیں۔اور ان مقامات کا گہنا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جانا احمدیوں کو پسند ہے۔پس اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے اور احمدی مکہ و مدینہ کی عزت کرنے والے ہیں تو تو ہم پرادر ہما رے بیوی بچوں پر عذاب نازل گر۔وہ اس طریق فیصلہ کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ خدا اس معاملہ میں اپنی قدرت کا کیا ہاتھ دکھا تا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں تو یا درکھیں جھوٹ اور افترا دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کر سکتا ہے اس چیلنج کے شائع ہونے پر اگر چہ بعض احراری مقرر حضر ت مینہ بیع الثانی کی طرف سے قادیان اگر تقریر کہ گئے کہ ہم مباہلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔نمائندگان کا تقر اور چیلینج کی مزید ضاعت تو خود مجلس احرار کے لیڈروں نے کوئی اور قدم نہیں اٹھایا۔تب حضور نے اس خیال سے کہ شاید احرار کو یہ برا معلوم ہوا ہو کہ اخبار میں اعلان کر دیا گیا ہے اور ہمیں تحریر مخاطب نہیں کیا گیا و تمبر یہ کے خطبہ جمعہ میں اپنی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب ه الفضل در تمر من له الفضل ۳ ستمبر 19 مرمت کا لم ۳ وہم ہے 14 ÷