تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 246 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 246

۲۳۳ نہایت سخت ہوتے ہیں۔اب وہ معاہدہ جو انگریزوں سے ہو ا شائع ہوا ہے اور اس کے خلاف بعض ہنڈیانی اخبارات مضامین لکھ رہے ہیں میں نے وہ معاہدہ پڑھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بعض غلطیاں ہو گئی ہیں اور اس معاہدہ کی شرائط کی رو سے بعض موقعوں پر بعض بیرونی حکومتیں یقینا عرب میں دخل دے سکتی ہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو پڑھ کر میرے دل کو سخت رنج پہنچا۔حالانکہ انگریزوں نے ہما را تعاون ہے اور ہم اس کا ذکر کرنے سے کبھی ڈرے نہیں سوائے حکومت پنجچا ہے کہ اسی دو تین سال سے خود ہمارے تعاون کو ٹھکرا دیا ہے۔باقی انگریزی حکومت سے ہم نے ہمیشہ تعاون کیا ہے اور ہمیشہ تعاون کرتے رہیں گے جب تک وہ خود حکومت پنجاب کی طرح ہمیں دھتکار نہ دے۔بنگر با وجود اسکے کہ ہم انگریزوں سے تعاون رکھتے ہیں اور باوجود اسکی کہ میں انگریزی حکومت کے ڈھانچہ کو دنیا کیلئے مفید ترین ریز حکومت سمجھتا ہوں جس میں اصلاح کی گنجائش ضرور ہے مگر وہ توڑنے کے قابل شے نہیں ہے۔پھر بھی انگریز ہوں یا کوئی اور حکومت عرب کے محاطہ میں ہم کسی کا لحاظ نہیں کہ سکتے۔اس معاہدہ میں ایسی احتیاطیں کی جا سکتی تھیں کہ جن کے بعد عرب کیلئے کسی قسم کا خطرہ باقی نہ رہتا میگر و بعد است کی کہ سلطان ابن سعود یوروپین اصطلاحات اور بین الاقوامی معاملات سے پوری واقفیت نہیں رکھتے۔انہوں نے الفاظ میں احتیاط سے کام نہیں لیا اور اس میں انہوں نے عام مسلمانوں کا طریق اختیار کیا ہے مسلمان ہمیشہ دوسروں پر اعتبار کرنے کا عادی ہے حالانکہ معاہدات میں کبھی اعتبار سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ سوچ سمجھ کر اور کامل غور وفکر کے بعد الفاظ تجویز کرنے چاہیں گوئیں سمجھتا ہوں یہ معاہدہ بعض انگریزی فرموں سے ہے۔حکومت سے نہیں۔اور ممکن ہے جس فرم نے یہ معاہد کیا ہے اس کے دل میں بھی دھوکا بازی یا غداری کا کوئی خیال نہ ہو۔اگر الفاظ ایسے ہیں کہ اگر اس فرم کی کسی وقت نیت بدل جائے تو وہ سلطان ابن مسعود کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔مگر یہ سمجھنے کے باوجود ہم نے اس پر شور مچانا مناسب نہیں سمجھا۔کیونکہ ہم نے خیال کیا کہ اب سلطان کو بدنام کرنے سے کیا فائدہ۔اس سے سلطان ابن سعود کی طاقت کمزور ہوگی اور جب ان کی طاقت کمزور ہو گی تو عرب کی طاقت بھی کمزور ہو جائے گی۔اب ہمارا کام یہ ہے کہ دعاؤں کے ذریعہ سے سلطان کی مدد کریں اور اسلامی رائے کو ایسا منظم کریں کہ کوئی طاقت سلطان کی کمزور ہی سے فائدہ اٹھانے کی جمات نہ کر سکے یہ اے شه - الفضل قادیان ۱۳ ستمبر ۳۵ ملتا ہے