تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 243 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 243

۲۳۰ احدار کی اس افسوسناک روش کی نسبت کلکتہ کے مسلم روز نامہ اخبار ہند نے حسب ذیل مضمون شائع کیا :۔یہ واقع ہے کہ مولانا اسمعیل غزنوی سالہا سال سے شاہ ابن سعود کے ہاں آمد ورفت رکھتے ہیں۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مولا نا غزنوی کے اسی تعلق کی وجہ سے ان کے بعض رفیقوں کو مخصوص ذاتی شکائتیں پیدا ہو گئی ہیں۔اور چونکہ ان کی شکائت میں ڈوبہ نہ ہو سکیں۔اور چونکہ وہ مجلس احرار میں بہت رسوخ رکھتے ہیں۔اس لئے انہوں نے مولانا اسمعیل غزنوی اور حکومت حجاز سے انتقام لینے کی یہ صورت نکالی ہے کہ مجلس احرار ملک بھر میں حکومت حجازہ کے خلاف ایجی ٹیشن کرے اور اسطرح حکومت حجاز کو مجبور کر دے کہ وہ مذکورہ بالا شکا متیں دور کرنے پر آمادہ ہو جائے۔اپنی اس اطلاع کا ذکر ہم نے اشارہ پچھلے مضمون میں کیا تھا۔مگر اس پر زور نہیں دیا تھا کیونکر ہیں اس پر پورا یقین نہیں تھا۔لیکن اب مجاہد' کا افتاحی دیھکہ ہمیں بڑی حد تک اپنی اطلاع کی صحت پر بھروسہ ہو گیا ہے۔کیونکہ مجاہد نے اپنے اس افتتاحیہ میں حد درجہ تدفین تلبیس سے کام لیا ہے جو اس گیا۔بات کی دلیل ہے کہ پس پردہ کوئی اور ہی حقیقت موجود ہے۔مجاہد کے افتتاحیہ کالب لباب یہ ہے کہ مجلس احرار اب تک جزیرۃ العرب کی حقیقی صورت حال سے واقف نہ تھی۔لیکن اب اسے یقین سے معلوم ہو گیا ہے کہ شاہ ابن سعود انگریزوں کے زیر انتہ ہیں اور یہ کہ عرب کے خارجی معاملات پر برطانیہ کا قبضہ ہے اور انگریز مدیر سلطان کو معاہدں کے جال میں پھنا کہ داخلی مسائل پر قابض ہو رہے ہیں۔اور یہ کہ جنگ یمین و نجد برطانیہ ہی کے انتشارے سے ہوئی تھی۔اور شاہ ابن سعود کی فتح محض برطانیہ کی قوت سے ہوئی۔اور یہ کہ امام میں انگریزوں کے یا اٹلی کے یا کسی اور اجنبی قوت کے زیر اثر نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ الزامات۔لیکن سوال یہ ہے کہ مجلس احرار اور اسکی آرگن" مجاہد" کے پاس اپنے ان دعووں کی تائید میں کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں ؟ اگر دلیل ہے تو پیش کرنا چاہیے۔اس افتتاحیہ میں تو ان تمام الزاموں کی بنیاد اسی معاہدے کو بتایا گیا ہے جو کان کنی کے ٹھیکہ سے متعلق حکومت حجازہ نے کیا ہے نگر ہیں یہ بھی تو بتایا جائے کہ اس معاہدے میں کونسی دفو ایسی ہے جس کی بنا پہ یہ تمام الزام تراش لئے گئے ہیں۔بقیه حاشیه : جس پر سلطان نور الدین نے اسکے ارد گر دگہری خندق کھدوا کے اس میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا۔اور محض تحفظ کے خیال سے اس پر گنبد تعمیر کیا گیا ملاحظہ ہو کتاب" مرة الحرمين "جلد اول تالیف ابراہیم نفت پاشا ص ۲۳۷۳ طبع اول ۱۳۴۴ - ۱۹۲۵ مطبع دار الكتب المصريه بالقاهره :