تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 242
۲۲۹ میں عربوں کے قتل پر سخت احتجاج کیا۔اور اسے " سرزمین حجاز میں یزیدیت سے تعبیر کیایہ مخالفت پورے زوروں پر تھی کہ خبر آئی کہ حوالت اللہ نے ایک غیرمسلم کمیٹی کو پٹرول وغیرہ کا ٹھیکہ دینے کیلئے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔اگرچہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا معاہدہ نہیں تھا کو خصوصا مجلس احرار نے سلطان المعظم اور انکی حکومت کے خلاف مسلمانوں کو مشتعل کرنے کیلئے جلسے کئے اور اخباروں میں بدگوئی سے کام لیتے ہوئے سخت زہریلا پراپیگنڈا گیا اور بالآ خر اسے ایک خالص مذہبی مسئلہ قرار دیکر مخالفت کا ایک وسیع محاذ کھول دیا۔جسکی اصل وجہ یہ تھی کہ احرار لیڈر شریف حسین دالی مکہ کے شکست کھا جانے کے بعد سعودی حکومت کے بھی مخالف تھے۔اور ابن سعود کو سرمایہ دارانہ ماحول کا پر درش یا فتہ بتا کر بدنام کر تے رہتے تھے یہ ٩٣٧راء شیعه انهار مجربه تیم چون شراء بجواله الحدیث امرتسر، جون ۱۳۵ داده ها ے۔دی سودین عریبین مائیکنگ سنڈیکیٹ لمیٹڈ ز ان کار پوری ٹران انگلینڈ ه - اخبار کورتران گزٹ دوہلی نے دار جنوری مشکل کی اشاعت میں حمید یہ حجاز ریلوے کے زیر عنوان یہ خبر شائع کی : حمید یہ تجاز ریلوے لین کمیٹی نے فرانس د بلجیم و جرمنی کے مشہور تاجروں کو معدنیات کا اجارہ دینے کا قصد کیا ہے۔حجاز ریو سے سکہ راستے ہیں معدنیات ملتی ہیں۔چونکہ اسوقت اور کوئی نکالنے والا نہیں اس سب ہے شاید اہل یورپکے اجارہ دینا پڑ نے من نے ہے۔اہلحدیث ار د ملا کالم اپنے شے۔مجاہد ۴ ارمئی ۱۹۳۶ء بحوالہ اہلحدیث ۲۹ مئی ء ص : تھے۔چوہدری افضل حق " تاریخ احرار میں لکھتے ہیں۔ابن سعود کا سارے عرب میں طوطی بولنے لگا خشک قسم کا وہابی تھا اسکے مدینے میں قدم رکھا تو بھونچال لے آیا۔قبوں کو گرا کر ہموار کر دیا۔۔۔۔۔۔ہم شریف حسین کے دیں بدر ہونے پر خوش تھے کہ غدار اپنے انجام کو پہنچا۔مگر تھے گرانے کے متعلق متذبذب تھے۔۔۔۔۔۔یہ سب تھے اور مقبرے سرمایہ داروں کی سنگدلی کا نتیجہ ہیں۔اگر نبی کریم کی قبر اصل حال میں ہوتی تو اس زیارت سے سرمایہ داروں کے خلاف مسلمانوں کی نفرت قائم رہتی۔اب جبکہ مسلمان عوام کی دل و دماغ کی ساخت سرمایه داری مشین میں تیرہ سو برس ڈھل کر بدل گئی تو ابن مسعود کا ظہور ہوا۔۔۔۔بیچارہ ابن سعود بھی سرمایہ دارانہ ماحول کا پر ورکش، یافتہ تھا اُسے خود اسلام کا منشاء معلوم نہ تھا۔اس نے چند قبے گرائے جگہ خود شاہانہ بسر اوقات کرنے لگا۔" (ص۲۲ تا ۲۲۰) یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مفکر احرار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کے پختہ مقبرہ کو سرمایہ داری کی سنگ دلی کا نتیجہ قرار دینے میں حقائق کی صریح تغلیط کی ہے تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ مقبرہ بنانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ سنہ دورمیں عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کو نکال کر اس کی بے حرمتی کرنے کی سازش کی تھی