تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 235 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 235

۲۲۳ أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بسم الله الرّحمن الرّحيم : محمد ، ونصلى على رَسُولِ الكَرم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هواله سامير اللہ تعالیٰ کی محبت سب اصول سے بڑا اصل ہے۔اسی میں سب برکت اور سب خیر جمع ہے۔جو سیتی محبت اللہ تعالی کی پیدا کرے وہ کبھی نا کام نہیں رہتا اور کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا۔نمازوں کو دل لگا کر پڑھنا اور باقاعدگی سے پڑھنا۔ذکر الہی۔روزہ - مراقبہ یعنی اپنے نفس کی حالت کا مطالعہ کرتے رہنا سونا کم کھاناکم دین کے معاملات میں ہی نہ کرنانہ سننا مخلوق خدا کی خدمت نظام کا ادب و احترام اور ایسی ایسی وابستگی کہ جان جائے اس میں کمی نہ آئے۔اسلام کے اعلیٰ ڈھول ہیں۔قرآن کریم کا غور سے مطالبہ علم کو بڑھاتا ہے اور دل کو پاک کرتا ہے اور دماغ کو نور بخشتا ہے۔سلسلہ کی کتب اور اخبارات کا مطالعہ ضروری ہے۔تمدا کے رسول اور مسیح موعود اس کے خادم کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت کا ہی جہد ہے۔نہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کوئی نبی گزرا ہے۔نہ مسیح موعود جیسا نائب صلی اللہ علیہما دستم تقوی اللہ ایک اہم شے ہے۔مگر بہت لوگ اس کے مضمون کو نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔سلسلہ کے مفاد کو مردم سامنے رکھنا بند نظرکھنا مطوبیت سے انکار اور غلبہ اسلام اور حریت کے لئے کوشش ہماری زندگی کا نصب العین ہونے چاہئیں۔لے نها کسار مرزا محمود احمد " چوڑ کی محمد احمق صاحب قریبا ساڑھے تین سال تک چھین میں احدیت کا نور پھیلاتے رہے اور اپریل سلام اللہ کو قادیان آگئے۔سید نا حضرت امیر المومنین رضا نے اراضیات سندھ کے معائنہ یرالمومنین نده کی غرض سے پہلا سفر ۱۹۳۵ ء میں کیا۔حضور استار مئی ۱۳۵ داد کو بعد نماز عصر قادیان سے روانہ ہوئے۔حضور کے عہد خلافت میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضور سندھ سه - الفضل قادیان ۳۰ ستمبر سر و صدا که - الفضل ار ا پریل شراء به سه - الفضل الارمئی را صدا کالم ابد