تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 229 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 229

۲۱۹ نے کبھی اس طرح عیسائیوں کو مباحثہ میں شکست فاش دی ہو۔یہی نہیں عیسائی مناظر پادری تھیوفیلے نے جماعت احمدیہ سنگا پور کے پریذیڈنٹ عبد الحمید صاحب سالکین سے درخواست کی کہ یہ مباحثہ شائع نہ کیا جائے۔پھر یو نیورسٹی آف ملایا کے مسلم طلبہ نے اس مباحثہ کے ریکارڈ لئے بیلہ موں نا محمد صادق صاحب کی طرف سے بنیادی لٹریچر تیار کیا گیا۔چنانچہ آپ نے سنگا پور اور لایا میں مندرجہ ذیل کتابیں تصانیف کیں جو شائع ہو چکی ہیں :- - ترجمه قرآن مجید غیرمطبوعه، زبان انڈونیشیا، یہ اہم کامتبلیغ تعلیم اور مضامین لکھنے کے ساتھ ساتھ 1405 ایک سیال د نومبر تا ۲۲ رد کر سر میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔۲۔سچائی - قریبا ۱۲۰ صفحات کی کتاب۔تبیان احمدیت " شہداء میں لایا اور سنگا پور میں احمدیت کے خلاف یکے بعد دیگرے تین چار کتب شائع ہوئیں جن کے جواب میں آپ نے یہ کتاب شائع کی جس میں اختلافی مسائل پر سیر کن بحث کرنے کے علاوہ سینکڑوں اعتراضات کے جواب بھی دیئے۔پورے ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ارکان ایمان - ۲۷ صفحات فلسکیپ سائمہ - ا۔اسلامی نمازیں تھیں تمام اسلامی نمائندوں کا مفصل ذکر درج ہے۔قریباً ۸۰ صفحات فلسکی پائی۔مولانا صاحب کے ذریعہ انڈونیشیا اور بلایا میں سینکڑوں نفوس کو ہدایت نصیب ہوئی جن میں انکو ملیل بن عبدالرحمن صاحب ساکن جو ہو کہ جو شاہی خاندان کے چشم و چراغ میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں کیے قریشی فیروز محی الدین صاحب دا ارجنوری داد تا ۱۲۱ را دریچ دوست مجاہدین کی سرگرمیاں ان۔قریشی صاد نے اپنے سرہ سالہ قیام میں ملک کے بعض 1407 کثیرالاشاعت انگریزی اخبارات میں مضامین لکھکر اسلام کی ترجمانی کی۔اس خدمت کا ملک کے مسلمان اہل علم۔طبقہ پر اچھا اثر ہوا۔۹ - مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری (۳ مئی سه د تا ۹ ستمبر - مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری ساڑھے چار سال تک انچارج مشری کے فرائض بجاں تے۔اس عرصہ میں آپ نے کئی مقابلے کئے کی نگاہ رہ کرشن مشن کے میوزیم میں سلام کی نمائندگی کی میشد ہے - ہے مورد خود ه له - ماخوذ از مکتوب مولانا محمد صادق صاحب محوره مورخه ۲۶ را پریل شاید۔ه - الفضل ۱۲ جون شال ۳ - ه الفضل ۱۲ جون ۱۹۶۵ء ص ٣ -