تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 228
۲۱۵ قائل ہیں یا نہیں۔علماء نے کہا حضرت علی علیہ السلام کے متعلق نبی الہ کا لفظ دکھایا جائے۔میں نے مشکواۃ سے مطلوبہ حوالہ دکھا دیا۔اور علماء نے اُسے دیکھ کر سلیم بھی کرلیا۔اگر قاضی القضاء کو اصرار تھا۔کہ نبی ال آنے والا عیسی ہی ہوگا۔کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔یہ بحث ختم ہوئی تو مجھے کہاگیا کہمیں غیر شرعی نبی کے آسکنے کے دلائل قرآن کریم سے پیش کروں برسے پہلے میں نے الیواقیت والجواہر ہے خاتم النبیین کے معنے بیان کئے۔کہ آپ تمام تشریعی انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں۔مجھے دوسرے علماء نے بھی تسلیم کیا۔پھر تھوڑی بحث و تمحیص کے بعد جب بھی قرآنی دلائل کا سلسلہ شروع بھی نہ ہوا تھا۔شیخ الاسلام نے کہا کہ ہمیں تاریخ مرزا صاحب - عقاید۔دوسروں کے اختلافات۔دعاوی اور معجزات کے متعلق پر پھر مکھکر بھیج دیا جائے۔تاکہ ہم اس پر مزید غور کر سکیں۔اس کیلئے ۳۰ جولائی سے ۱۴ دن تک کا وقت مقرر کیا گیا۔اور اس پر چودہ دن کا عرصہ تنقید کیلئے مقرر ہوا۔اس کے بعد علماء نے سلطان سے درخواست کی کہ وہ ہمیں نماز جمعہ بڑی مسجد میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بڑھنے انکم صادر فرمائیں۔میں نے جواباً عرض کیا کہ یہ لوگ ہمارے حضرت مسیح موعود علی السلام کو کا فرادار جھوٹا کہتے ہیں۔اگر یہ انہیں سچا مان لیں تو ہم بخوشی اس کے لئے تیار ہیں۔اور چونکہ آپنے اب احمدیت کے متعلق تحقیق شروع کی ہے۔اسلئے مناسب ہے کہ فی الحال اس سوال کو نہ اٹھایا جائے۔اس پر ڈائرکٹرنذ سہیات نے کچھ جرح قدح کی لیکن سلطان نے یہی حکم دیا۔جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا جماعت بدستور عمل د عبادت میں مشغول رہے۔اسکے بعد سلطان کے ساتھ سب علماء نے بشمول ہمارے کھانا کھایا۔اور ۲ بجے کے قریب ہم رخصت ہوئے۔مطلوبہ پر چہ کھکر مراگشت کو شیخ الاسلام کی خدمت میں ارسال کر دیا گیا۔یہ پرچہ بیس صفحات پر مشتمل تھا۔لیکن افسوس کہ علماء کی طرف سے تا حال اس کا جواب موصول نہیں ہوا ) لے ۲۵۰۲۳ ستمبر کو مکرم مولوی محمد صادق صاحب نے ایک پر اسسٹنٹ پادری میںتھیو فیلے (MATHEW FINLAY) سے مسئلہ الوہیت مسیح اور مسئلہ کفارہ پر مناظرہ کیا۔خداتعالی کے فضل سے اس مباحثہ میں اسلام کو ایسی شاندار کامیابی نصیب ہوئی کہ ایک مشہور مصنف شیخ علوی بن شیخ الہادی (عرب) نے اختیار میں لکھا کہ میں ستر برس کا ہو چکا ہوں مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں له الفضل ۲۰ مئی ۱۹۵۲ء ص - اخبار نمین المره - روست