تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 227
۲۱۴ آپ کے ابتدائی زمانہ قیام میں سنگا پور اور طلایا میں سخت مخالفت اللہ کھڑی ہوئی۔جس پر آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ارشاد پر سنگا پور سے پنانگ تک کا وسیع تبلیغی دورہ کیا اور قریباً ایک سو علماء سے ملاقات کی۔آپ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ تقریبا نوے فیصدی علماء نے اقرار کیا کہ ہم احمدیوں کو سلمان سمجھتے ہیں۔خادم اسلام یقین کرتے ہیں اور انہیں کا فر کہنے کیلئے تیار نہیں نہیں پہلے احمدیت کے عقائد کے متعلق دھوکہ دیا گیا تھا۔جن کی وضاحت اب ہم پر ہو چکی ہے نیے مکرم مولوی صاحب موصوف کا ۲۳ جولائی اشارہ کو ریاست سلانگور کے ہشام الدین عالم شاہ کی موجودگی میں علماء ریاست سے باقاعدہ ڈھائی گھنٹہ تک مباحثہ ہوا۔اس اہم مباحثہ کی روداد مکرم مولوی محمد صادق صاحب کے قلم سے درج کی جاتی ہے :۔جرام SERAM (ریاست سلانگور میں جماعت قائم ہونے کی وجہ سے ریاست میںکافی مخالفت ابھر چکی تھی اور چونکہ نکاح کرانا۔مقبرہ میں دفن کرنے کی اجازت دنیا بڑے افسروں کے اختیار میں ہوتا ہے اس لیے ہم نے سلطان سلانگور سے اپنے عقائد بیان کرتے ہوئے درخواست کی وہ ہماری جماعت کو اسلامی قرائہ دیکھ لوگوں کے فتنہ کا سد باب کریں۔سلطان موصوف نے اس درخواست کو درخور اعتناء جانا، اور ہمیں احمدی دوستوں کو دعوتی خط بھی کر بلایا اور مجھے بھی بذریعہ تار رام پہنچنے کاحکم جاری کر دیا۔وہاں پہنچنے پرمعلوم ہوا کہ ریاست کے تمام بڑے بڑے علماء کو بلایا جا چکا ہے۔دس بجھے تو سلطان نے سلسلہ کام شروع کرتے ہوئے فرمایا۔کہ آج ہم ایک نئے مذہب کی تحقیق کیلئے جمع ہوئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں۔کہ خود ہی اس کی تحقیق کریں۔سلطان کے ارشاد پر میں نے اپنی ابتدائی تقریر میں حاضرین کو بتا یا کہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے۔بلکہ وہ حقیقی اسلام ہی ہے۔پھر سلطان نے علماء کے اشارے پر یہ ارشاد کیا کہ میں اپنے عقائد ذر التفصیل سے بیان کردی۔میں نے بیانی کیا۔کہ جماعت احمدیہ حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یا فتنہ مانتی ہے۔۲۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے اور جماعت احمد یہ مانتی ہے کہ امت محمدیہ کے مسیح موعود حضرت میرزا غلام احمد علی اسلام ہیں۔اس پر ایک عالم نے اٹھ کر کہاکہ آخر صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔کیونکہ نبی اکرم صلی الہ علیہ والہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔میں نے جواباً عرض کیا کہ اگر اس کا مطلب کسی نبی کا نہ آسکتا ہے تو پھر ان سے دریافت فرمائیں کہ یہ لوگ نبی اللہ علی کے آنے کے لے ماہنامہ الفرقان بوه دسمبر ۹۶ درد و جنوری ست اور منہ کالم ۲