تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 226
۲۱۳ دردانگی ها را برای گشت اشاره ۲ به مولوی شاه محمد صاحب ہزاروی د روانگی در اپریل ، آپ چند ماہ تک سنگاپور میں تبلیغی فرائض بجالانے کے بعد شاہ میں جاوا منتقل ہو گئے سے مولوی امام الدین صاحب ملتانی - آپ 17 جون شکر کو قادیان سے روانہ ہو کہ در جولائی کو سنگا پور پہنچے۔ٹرانسپورٹ کی مشکلات کی وجہ سے ان دنوں اپنے ایک نیوی فلیگ شپ نما بلا نامی میں بطور دھو بی ملازم ہو کہ کام کیا اور سنگا پور پہنچے گئے۔چونکہ جنگ نئی نئی ختم ہوئی تھی اور سنگا پور میں ابھی بیشمار جاپانی قیدی ہونے کی وجہ سے افراتفری اور نظام درہم برہم تھا۔اس وجہ سے وہاں ان دنوں تبلیغی حالات اچھے نہ تھے۔مرکز کے ساتھ خط و کتابت اور مالی امداد با قاعدہ نہیں تھی اسلئے لوکل طور پر ہی او سر او سر کے کام کر کے ضروریات زندگی پوری کرنی پڑاتی رہیں۔اور ساتھ ساتھ تبلیغ کا کام بھی جاری رکھا گیا۔وہاں کے بعض احدی ملانہ مین کی مدد سے مالا باری ہندوستانیوں میں تبلیغ سے پھارا افراد نے بیت کی۔جو بہت مخلص ہیں۔آپ شہہ سے لیکر دیر تک مولوی غلام حسین صاحب آیاز کی قیادت میں جماعتی امور سرانجام دیتے رہے۔اور اسکے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے ارشاد کے ماتحت آپ سنگاپور سے شروع جنوری نشر میں پاڈانگ دانڈونیشیا) روانہ ہو کہ ار ضروری منشور کو جاکارتا پہنچے اور انڈونیشیا مشن میں منتقل ہو گئے۔لم چو ہدری محمد احمد صاحب (ستمبر ۱۹۳۶ و تا جنوری ۱۹۳۶ء) مولوی محمد سعید صاحب انصاری (۱۳ دسمبر شده تا مارچ ۱۹۳۵ء - جنوری ۱۹۷ء تا جون ۱۹۶۲مه) ۲۲ - 4 - میاں عبدالحي صاحب - مولانا مولانامحمد صادق صاح کے کار ہاہے۔۔وہ احمد صادق صاحب ده ر دسمبر کشنده تا مارچ په مارچ درد سمیه تامه را داد اراک له الفضل ۲۱ اپریل ۳۶ را اصلا کالم ۱ - ۵۲ الفضل ۲۱ اپریل ۲۶ شراء ما - ٣ الفضل دار تمبر رصد میں آپکا ایک مضمون موجود ہے جیسے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کا منشا مبارک یہ تھا کہ صرف چند ہفتے تک سنگا پور قیام پذیر رہیں۔سہ ماہنامہ الفرقان در بوه تم له صدا - خالد جنوری له م - م م ر فروری شادی کو سنگاپور سے ۳۲ ه ملایا۔(کوالا لمپور میں تبدیل کئے گئے۔