تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 223
۲۱۰ سخت سے سخت حالات میں بھی مولوی صاحب مایوس نہیں ہوئے۔اور جناب مولوی صاحب کی نتھنک کوششوں کا نتیجہ دیکھکر ماننا پڑتا ہے۔کہ یہ بھی ایک احمدیت کا معجزہ ہے۔ایسے مانوں میں سر لوگوں کا احمدیت قبول کرنا۔اور پھر مخلص احمدی بنا تقولٰی اور طہارت میں ایک مثال قائم کر دنیا ، بلکہ فرشتہ حصلت انسان بن جانا اور دین کے لئے بڑی بڑی جانی اور مالی قربانیاں کرنا یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے۔مولوی صاحبچے نہ صرف یہ کہ یہاں جماعت قائم کی۔بلکہ اس کی تنظیم اور تربیت میں بھی کمال کر دیا ہے۔اس کے علاوہ جب ہندوستانی فوجیں یہاں آئیں۔تو مولوی صاحب کو اپنے فوجی دوستوں کی تربیت کا بھی خیال پیدا ہوا۔چنانچہ آپ نے اخبارات میں اشتہارات وغیرہ دیکہ تمام احمدی فوجی دوستون سے تعلق قائم کیا۔اور ہر اتوار کو سب کی میٹنگ مقرر کی جس میں سوائے ان لوگوں کے جن کی ڈیوٹی ہوتی۔باقی سب دار التبلیغ میں جمع ہو جاتے اور مختلف پہلوؤں سے احمدیت پر روشنی ڈالی جاتی۔اور کوشش کی جاتی۔کہ ہر احدی ضرور کچھ نہ کچھ تقریہ کرے۔اس سے نہ صرف یہ کہ سب کو تقریر کرنے کی مشق ہوتی۔بلکہ ہمارے ایمان میں بھی ترقی ہوتی یہ لے تیسری شہادت :- تیسری شہادت ایک غیر از جماعت دوست جناب کیپٹن سید ضمیر احمد صاب جعفری ہی۔اسے سول نائن جہلم کی ہے۔آپ نے جون کر دیں جماعت اوریہ کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے ایک خط لکھا کہ :۔یں حال ہی میں مشرق بعید سے آیا ہوں لایا جادا وغیرہ میں آپکے سلسلہ کی طرف سے مولوی عالم میں صاحب ایا نہ تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔۱۹۳۵ء میں جب اتحادی فوجوں کے ساتھ ہم مایا میں پہونچے۔تو مولوی صاحب نائبا تنہا تھے۔مور وراءمیں مولوی عبدالحی اور شاید دو ایک اور کارکن بھی پہنچ گئے تھے۔جہانتک مولوی غلام حسین ما ایاز کی ذات کا تعلق ہے۔ان کے خلاف میں ایک بات بھی نہیں کہہ سکتا۔اپنے منصب کو وہ انتہائی ایثار و خلوص اور خاصے سلیقہ کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔بلکہ بین دشواریوں اور نامساعد حالات میں سے وہ گزر رہے تھے۔اگر اس پر غور کیا جائے تو ان کے استقلال حوصلہ اور بہت پر حیرت ہوتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ وہ اس کام کو ایک فریضیہ ایمانی مجھ کر کہ رہے ہیں۔میں جس طرف سلسلہ کی تقصیر بطور خاص دولانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں صرف ایسے مبلغین بھیجے جائیں جو علوم دینی کے ه الفضل ارجون داد ۱۲۰ رحبت کو جلد ۳۲ مشت - الفضل نمین آمار :