تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 218 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 218

۲۰۵ جنوری او تک یہاں پندہ احمدیوں پر مشتمل ایک جماعت پیدا ہوگئی لیه ، یکم سب اللہ کو دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی تو جاپان نے دو تین ماہ کے اندر اندر مانچو کو اور شمالی پین کے علاوہ فلپائن۔ہند سپینی، تھائی لینڈ لایا اسنگا پور، بھاوا، بورنیو ریلیز نیوگنی اور حر الکاہل کے بہت سے جزیوں کو اپنے زیر اقتدار کر لیا۔یہ ایام سنگا پورشن اور مولوی ایاز صاحت کے لئے انتہائی صبر آزما تھے خصوصا جاپانیوں کے خلاف پراپیگینڈا کر نے کی وجہ سے آپ پر بہت سختیاں کی گئیں اور خرابی صحت کے باعث سر اور ڈاڑھی کے بال قریبا سفید ہو گئے بلکہ آپ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ اس زمانہ میں بڑی رقت اور گرانی سے دعائیں کرتا تھا اور اللہ تعالے کا مجھ سے یہ سلوک تھا کہ اکثر و فعہ بذریعہ کشف اور الہام دعا کی قبولیت اور آئندہ کامیابی کے متعلق مجھے بشارات مل جاتی تھیں اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی توجہ کی برکت تھی یہ کہ اس زمانہ میں آپ نے سرفروشانہ جہاد تبلیغ اور خدمت خلق کا جو نہایت اعلی اور قابل رشک نمونہ دکھا یا اسکا کسی قدر اندازہ لگانے کے لئے ذیل میں تین چشم دید شہادتیں درج کی جاتی ہیں۔پہلی شہادت : پہلی شہادت محمد نصیب صاحب عارف کی ہے جو سنگا پور میں جنگی قیدی رہے۔عارف صاحب نے ہندوستان واپس اگر اپنے مشاہدات الفضل وار دسمبر شہد میں شائع کر آئے جنہیں لکھا: آکر اور دی سنگا پور کے مبلغ مولوی غلام حسین ایاز بھی ان پر جوش مجاہدین میں سے ایک ہیں جن کا قابل رشک اخلاص اور تبلیغی انہماک ایک والہانہ رنگ رکھتا ہے۔جاپان کے گذشتہ ساڑھے تین سالہ ملایا پر قبضہ کی وجہ سے جناب مولوی صاحب کی مساعی جمیلہ جماعت کے سامنے نہیں آسکیں۔۔۔۔۔مولوی صاب موصوف گذشتہ دس سال سے اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے سنگاپورمیں مقیم ہیںاور تحریک جدید کے ابتدائی مجاہدوں میں سے ہیں۔اور تبلیغ کے ساتھ اپنے اخراجات کیلئے بھی آپ صورت پیدا کرتے ہیں۔صرف پہلے چھ ماہ کا خرچ دفتر تحریک جدید نے دیا تھا۔مارچ ۱۹۲۷ء میں جب یہ عاجز سنگا پور پہنچا۔تو چند دوستوں کے ساتھ دارالتبلیغ میں گیا۔ہے۔اخبار فاروق ۳ از فروری ۱۲ او د ملا - الفضل ۱۲۳ نومی مرمت کالم ۲ - ۳ الفضل ۲۰ فروبونی من بروقت کالم ۲ - ۲۔اس سلسلہ میں آپ کا ایک مضمون الفصل ۳ ر جنوری مشاء میں شائع شدہ ہے۔۱۹۴۵