تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 217
لہ دیا ۱۳ ء میں سنگاپور کی جامع مسجد میں (جسے مسجد سلطان کہا جاتا ہے ) ایک عالم کا ہماری جماعت کے خلافت لیکچر تھا مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایان۔۔۔۔۔۔بھی یہاں تشریف لے گئے۔مولوی عبد العلیم صاحب صدیقی نے دوران تقریر میں کہاکہ مرزائیوں کا قرآن اور ہے۔وہ نہیں ہے جو کہ حضرت سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا۔اسپر مکرم مولانا غلام حسین صاحب ایاز نے بڑی جرات سے کھڑے ہو کر سب کے سامنے اپنے بیگ سے قرآن کریم نکالا اور صدیقی صاحب کو چیلنج کیا کہ دیکھو یہ ہے ہمارا قرآن آپ اپنا قرآن نکال کر مقابلہ و موازنہ کر لیں اگر وزه بر زیر زبر کا بھی فرق ہو تو بیشک ہمیں ملزم یا کافر قرار دے لیں ورنہ اس قسم کی غلط بیانیاں کرتے ہوئے خدا کا خوف کریں۔اس مولوی نے مجمع کو ہمارے خلاف پہلے ہی مشتعل کر رکھا تھا۔بجائے پھیلنج قبول کرنے کے ار نے پبلک کو ہمارے خلاف مزید اشتعال دلایا اور کہا کہ یہ شخص کا فرمرتد ہے اس کی سزا اسلام میں قتل ہے۔کوئی ہے جو کہ مسلمانوں کو اسے نجات دلائے۔اس پر مجمع میں سے بعض لوگوں نے مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز کو سخت مارا اور گھسیٹ کر مسجد سے باہر نیچے پھینک دیا وہ مسجد او پر ہے اور نیچے تہ خانہ یا کمرے وغیرہ ہیں۔چنانچہ مولوی صاحب مرحوم کو سخت چوٹیں آئیں۔کمر پر شدید چوٹ آئی اور سر پر بھی جسی آپ نیچے گرتے ہی بے ہوش ہو گئے۔آپ کے ساتھ ایک احمدی دوست محمد علی صاحب تھے انہوں نے بھاگ کر پولیس کو اطلاع دی۔چنانچہ پولیس مولوی صاحب کو کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہاں سے اٹھا کر ہسپتال لے گئی۔جہاں پر آپ کو کئی گھنٹوں کے بعد ہوش آیا اور ہفتہ عشرہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔اسی طرح ایک مرتبہ آپ کو مخالفت کی وجہ سے بعض دشمنوں نے چلتی بس سے دھکا دیکر با ہر بازار میں پھینک دیا تھا جسے آپ کے منہ اور سر پر شدید چوٹیں آئیں مگر پھر بھی اللہ تعالے نے آپ کو بچا لیا " یارستمی الیہ کو آپ لویا کی ایک ریاست سانگور میں تشریف لئے گئے۔اور پہلے کوالالمپور اور پھر کانگ میں ٹھہرے۔کانگ میں پانچ اشخاص (جن میں حافظ عبدالرزاق بھی تھے، مشرف با حمایت ہوئے مکتوب مورند یکم جولائی ۱۹۶۳مه د از مقام احد یه کم مشن ۱۱۱/۱۶ اون روڈ (OMAN ROAD) سنگاپور ) ہے۔الفضل ، در نومبر تیر ها ریاست سلانگور سنگاپور سے قریباً تین سو میل کے فاصلہ پر