تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 212 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 212

194 جو ۱۹۳۶نہ کے وسط اول میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے جواب میں شائع کیا گیا اور حبس میں اُن کے بیان پر اس خوبی ، جامعیت اور مدلل رنگ میں روشنی ڈالی گئی کہ بیس دن ہی چڑھ گیا۔اور سر محمد اقبال اور اُن کے مداحوں پر ہمیشہ کے لئے حجت تمام ہو گئی۔مسئلہ وفات مسیح کی بالآخر یہ بتانا از بس ضروری ہے کہ ڈاکٹر اقبال نے جہاں جماعت احمدیہ کے ملالی بہت سے فلسفیانہ اعتراضات کئے ہیں وہاں آپ جماعت احمدیہ کے بنیادی معقولیت واضح اقرار عقیدہ وفات مسیح کے بارے میں تسلیم کرنے پرمجبور ہو گئے کہ :۔جہانتک میں اس تحریک کا مفہوم سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک فانی انسان کی مانند جام مرگ نوش فرما چکے ہیں نیز یہ کہ اُن کے دوبارہ ظہور کا مقصد یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے ان کا ایک میل پیدا ہو گا کسی حد تک معقولیت کا پہلو لئے ہوئے ہے۔والے الثانی کا اظہار مسرت اس واضح قاری کے علاوہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک تر خلیفہ اسیح الثانی کا اظہار مسرت نہایت اہم اور قیمتی نکتہ بھی بیان فرمایا جو ان کے اپنے الفاظ ڈاکٹر سر محمد اقبال کے ایک خیال پسر میں یہ ہے کہ بانی احمدیت کے الہامات کی اگر دقیق النظری سے تحلیل کی جائے تو یہ ایک ایسا موثر طریقہ ہوگا جس کے ذریعہ سے ہم اس کی شخصیت اور اندرونی زندگی کا تجربہ کر سکیں گے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو اس خیال پر از حد خوشی ہوئی اور حضور نے ایک بار اس تجویز کا پر جوش شیر مقدم اے مرزائیت کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں شاعر اسلام مفکر مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال مدظلہ العالی کا بغیر افروز بیان صفر ۲۴- ناشر سکوٹری شعبہ اشاعت تبلیغ مسجد مبارک برانڈر تھے روڈ لاہور، کار فروری ۳ لے حرف اقبال " صفحه ۱۷۱ ۱۷۲ ۰ •