تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 211
14A جناب حافظ اسلم صاحب جیراجپوری نے اس شعر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :- یہ خالص شاعرانہ استدلال ہے۔غالب کی طرح جس نے کہا ہے کیوں رو قدح کرے ہے زاہد ئے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے جس طرح مکس کی تے کہ دینے سے شہد کی لطافت اور شیرینی میں فرق نہیں آسکتا۔اسی طرح حکومت کی نسبت سے الہام بھی اگر حق ہو تو غارت گر اقوام نہیں ہو سکتا۔خود حضرت عیسی علیہ السلام رومی سلطنت کے محکوم تھے جن کی نسبت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے۔۔فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا نبی عفت و غمخواری و کم آزاری Q بلکہ اکثر انبیاء کرام علیہم السلام محکوم اقوام ہی میں مبعوث کئے گئے جس کے خاص اسباب و علل۔در اصل نبوت کی صداقت کا معیار حاکمیت یا محکومیت پر نہیں ہے۔بلکہ خود الہام کی نوعیت پر ہے" سے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے اس جوابی مضمون میں سے بطور نمونہ یہ صرف ایک مثال پیش کی گئی ہے ورنہ انہوں نے اس نوع کی لغزشیں کھائی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ بھاتی ہے۔اس واضح حقیقت کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے اخبار الفضل قادیان) کا چودہ قسطوں پر مشتمل سلسلہ مضامین مطالعہ کرنا ضروری ہے۔" بقید حاشیه صفحه گذشته : واپس کر رہے تھے، اقبال کو سر کا خطاب دیا گیا۔اور انہوں نے اُسے قبول بھی کر لیا جس پر کسی دل جلے نے یوں فقرہ چست کیا۔له " نوادرات " صفحه ۱۲۳ - ۱۲۴ سرکار کی دہلیز پہ سر ہو گئے اقبال “ 4 ر اقبال اور سیاست علی صفحه ۲۷۳ - ۲۷۴) سے ملاحظہ ہو " الفضل " ۲۰ فروری ، ۲۵ فروری ، ۲۷ فروری ، ۲۸ فروری ، ۱۵ مارچ ، ۱۹ مارچ ، ۱۲۲ مارچ ۲۲ مارچ ، ایمیل ، و منی ، اور مئی ، پر جون ، ۱۶ جون ، ۲۳ جون ۱۹۳۶ ۰ علاوہ ازیں " ریونیو آف ریلیجنتر " انگریزی مارچ ۱۹۳۳نہ کے شمارہ خصوصی پر • "DR۔MOHAMMAD IQBAL AND THE AHMADIYYA MOVEMENT" کے زیر عنوان ایک معرکۃ الآراء مضمون شائع ہوا۔