تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 210
194 ڈاکٹر ماہ کے بعض محبت غیر نظل ما اول کی ای دارای کیفیت این است که در امان نمای کی ی ختم نبوت اور اسلام کا باغی ثابت کرنے کے لئے پنڈت نہرو کے جواب میں بعض ایسے نظریات پیش کر دیئے جن کی تغلیط بعد کو خود اُن کے مداحوں کو کرنا پڑی مثلاً انہوں نے یہ نظریہ اختراع کیا کہ غلام قوموں کے انحطاط کے نتیجہ میں الہام جنم لیتا ہے۔اسی خیال کو انہوں نے اپنے ایک شعر میں یوں باندھا ہے۔محکوم کے الہام سے اللہ بچائے غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز بقه جاشی صفحه گذشته فیکشن " " رسول چین " هفت روزه قندیل نه پری کو ریا کاری بین کلیم وقت گفتنی و نا گفتنی صفحه ۲۳۲) پیغمبر پیغمبر ا کر حق" "نبی" " محمد موسی کفت" (اقبال ایرانیوں کی نظر میں" اور خدا جانے کیا کیا القاب و خطابات دینے لگے ہیں۔آغا عبدالکریم شورش کا شمیری نے بجا لکھا ہے کہ " علامہ اقبال کو مسلمانوں کی بے پناہ عقیدت لے ڈوبی ہفت روزہ "عادل" لاہور ۲۳ مارچ : صفحہ ۲) اس بے پناہ عقیدت کا نتیجہ کس رنگ میں برآمد ہوا ہے۔اس کا جواب پر وفیسر یوسف سلیم مشینی کے الفاظ میں یہ ہے کہ " اقبال کو اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔جیسے دیکھو آلات جراحی لئے مرحوم کے کلام کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہے۔مسلمانوں نے اقبال کے کلام کو ذہنی تفریح اور دماغی ورزش کا ذریعہ بنالیا ہے" اشرح بال جبریل صفحه ۲۴۳ ناشر عشرت پبلشنگ ہاؤس ہسپتال روڈ لاہور ) بقول شورش کا شمیری ” مسلمانوں نے علامہ اقبال سے ہو عقیدت استوار کی ہے اس کا رشتہ دماغی نہیں قلی ہے اور ظاہر ہے کہ دل کی محبت ہمیشہ اندھی ہوتی ہے مسلمان اقبال کے نام سے محبت کرتے ہیں لیکن اقبال کے کلام کو صرف گا تے یا گواتے ہیں۔ہم مرا یاراں غزل خوا نے ثمراند " "عادل" ۲۳ مارچ بر صفر ۲ ) نیز یارلوگوں نے اقبال کو اپنے مقاصد و اراضی کا محور بنا لیا ہے۔۔۔۔جن لوگوں نے یہاں اپنے آپ کو اقبال کا اجارہ دار بنانا چاہا۔۔۔اُن کی اکثریت جھوٹی ہے۔یہ لوگ اقبال کا مطالعہ کئے بغیر اقبال پر گفتگو کرتے ہیں " "شان" مني 19 صفحه ۱۵ کالم ۲۰۱) در اصل به صب نتایہ غلو کے نتیجہ میں پیدا ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر سر محمد اقبال نے جب مئی ۱۹۳ ء میں احمدیت کے خلاف پہلا بیان دیا تو اخبار الفضل (قادیان) نے واضح الفاظ میں لکھا جو لوگ سر موصوف کے حالات سے تھوڑی بہت بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ شعر و شاعری کے لحاظ سے تو ان کی قدر کی جا سکتی ہے لیکن مذہب کے بارے میں اُن کی رائے قطعا کوئی حقیقت نہیں رکھتی " "الفضل " ارمنی صفحه العالم ) اور اب تو نوبت یہانتک آپہنچی ہے کہ اقبال کی شاعری ناقدین کی زد میں ہے۔ملاحظہ ہو " اقبالیات کا تنقیدی جائزہ مؤلفہ قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی اقبال کی شاعری مؤلفہ مولانا عبد المالک صاحب آردی مطبوعہ نظامی پریس بدایوں ) " اقبال اس کی شاعری اور یہ تمام گر مولفہ شیخ اکبر علی ایڈو کیٹ ، ناشر کمال پیش ر ز ما مال روڈ لاہور، اقبال نئی تشکیل (مولفہ ابوظفر حیدرآبادی) مان استید رئیس احمد صا حب ساری نے شور علامہ اکر سہی، اقبال صاحب کی شان محکومیت کا نقشہ نہایت واضح الفاظ میں کھینچا ہے۔فرماتے ہیں :- اس دور میں اس طوفان نیز ، ہنگامہ آخری دور میں اقبال کا کیا حال تھا۔وہ کیا کر رہے تھے وہ کس طرف تھے۔آزادی کے شیدائیوں اور ملت کے اندروں کے ہاتھ یا قوم کے ہمنوں یا ملک کے غداروں کے ساتھ۔واقعات حقائق بڑے بے مروت اور غیر جانبدار ہوتے ہیں۔وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتے سچی اور کھری بات کہتے ہیں حقائق کی زبان سے واقعات کا بیان یہ ہے کہ اقبال نہ صرف تحریک خلافت کے ساتھ نہیں تھے بلکہ اس سے اصولی اختلاف رکھتے تھے اور اس لئے اس سے اسی طرح الگ اور غیر متعلق تھے جس طرح ایک مخالف ہو سکتا ہے۔یہی نہیں عین اس زمانہ میں جب لوگ ملازمتوں پر لات مار رہے تھے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا بائیکاٹ کر رہے تھے سرکاری عدالتوںکی مقاطع کر رہے تھے بکری خطابتا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)