تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 209
194 علامہ احسان اللہ خان تاجور نے اپنے رسالہ شاہر کار“ میں لکھا ہے کہ علامہ اقبال۔۔۔میں کمال قاطعیت کے ساتھ طاقت گفتار کی بہ نسبت روح کردار بہت کم ہے " ہے بلکہ امیر شریعیت احرار مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری تو صاف کہا کرتے تھے کہ "اقبال کا قلم تمام عمر صحیح رہا اور قدم اکثر و بیشتر غلط " بقی حاشیه صفحه گذشته - له کو باقیات اقبال کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے۔اس سے ان کو اس عظیم فلسفی شاعر کا نفسیاتی تجزیہ کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔مولوی ظفر علی خاں صاحب کا کہنا ہے کہ 2 مانگ کر احباب سے رجعت پسندی کی کدال + قبر آزادی کی کھودی کس نے سر اقبال نے کہہ رہے تھے ڈاکٹر عالم یہ افضل حق سے ! قوم کی لٹیا ڈبو دی کس نے سر اقبال نے "۔ظفر علی خان نمه ۱۹۷ از شورش ) 192 “ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے ۳۰ دسمبر کو لاہور سے مہاراجہ کشن پرشاد شاد (وزیر اعظم ریاست حیدر آباد ) کے نام ایک مکتوب لکھا تھا جس سے علامہ موصوف کی افتاد طبع کا خوب پتہ چلتا ہے۔فرماتے ہیں :- لندن میں ایک انگریز نے مجھ سے پوچھا تم مسلمان ہو ؟ میں نے کہا ہاں۔تیسرا حصہ مسلمان ہوں۔وہ حیران ہو کر بولے، کس طرح ؟ میں نے عرض کیا کہ رسول اکرم فرماتے ہیں۔مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہیں۔نماز ، خوشبو اور عورت۔مجھے ان تینوں میں سے صرف ایک پسند ہے۔مگر اس تخیل کی داد دینی چاہیے کہ نبی کریم نے عورت کا ذکر دو لطیف ترین چیزوں کے ساتھ کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ عورت نظام عالم کی خوشبو ہے اور قلب کی نماز - ایک معصومہ پنجاب میں رہتی ہے۔میں نے کبھی اُسے دیکھا نہیں مگر سُنا جاتا ہے کہ حسن میں لاجواب ہے اور اپنے گذشتہ اعمال سے تائب ہو کر پردہ نشینی کی زندگی بسر کرتی ہے۔چند روز ہوئے اس کا خط مجھے موصول ہوا کہ مجھ سے نکاح کر لو تمہاری نظم کی وجہ سے تم سے غائبانہ پیار رکھتی ہوں اور میری تو بہ کو ٹھکانے لگا دو۔دل تو یہی چاہتا تھا کہ اس کارخیر میں حصہ لوں مگر کمر میں طاقت ہی بری کافی نہیں اس کے لئے دیگر وسائل بھی ضروری ہیں۔مجبوراً مہذبانہ انکار کرنا پڑا۔اب بتائیے کہ آپ کا نسخہ کیسے استعمال میں آئے ؟ مگر میں آپ کی ولایت کا قائل ہوں کہ آپ نے ایسے وقت میں یہ نسخہ تجویز فرمایا کہ مرین کی طبیعت خود بخود ادھر مائل تھی۔نسخہ مجھے دل سے پسند ہے مگر اس کو کسی اور وقت پر استعمال میں لاؤں گا جب حالات زیادہ مسلمہ ہوں۔فی الحال سرکار کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ وہ قادر و توانا سرکار کی تقلید کی توفیق عطا فرمائے کہ شاہ کے مریدوں میں داخل ہو کر تشکیشی مذہب کو خیر باد کہہ کر بنده درگاه - محمد اقبال " پنجتنی ہو جاؤں۔رسہ ماہی رسالہ" اردو " شمارہ اپریل شاد کراچی جوالہ ہفت روزہ " لاہور ۲۸ است شمات یہ تو ایام شباب کی بات ہے جہانتک جناب موصوف کے آخری دور حیات کا تعلق ہے، اقبال کے بڑے عقیدت مند ایل تسلم جناب شورش کا شمیری صاحب مدیر چٹان " کی کتاب " نورتن " (صفحہ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ) کا مطالعہ کافی ہوگا بہ " " ج ے شاہکار " ۳۶ و صفحه ۱۰ که هفت روزه "عادل" ۲۳ مارچ نوار سفر ۲۔ان حقائق کے با وجود بعض صفحہ معلقوں نے غالباً کسی خاص منصوبہ اور مصلحت کے تحت اقبال کے معاملے میں ادھر غلو سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔اور ان کو (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ) i