تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 207
۱۹۴ انہوں نے احمدیت پر زبر دست نکتہ چینی کی۔یہاں ضمنا یہ بتانا شاید غیر مناسب نہ ہوگا کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال شعر و سخن اور فلسفہ دانی ایک ضمنی بات ا میں ایک بلند پایہ شخصیت کے حامل تھے مگر جہانتک اسلامی نظریات و مبادیات کو تحلق ہے۔انہیں خود مسلم تھا کہ ”میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گذری ہے اور یہ نقطہ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یا نادانستہ میں اسی نقطہ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں “ لے ۱۹۳ بقیه حاشیه صفحه گذشته : خود علامہ اقبال نے اور نومبر ۱۹۳۳ء کو بیان دیا کہ "میں پنڈت جواہر لال نہرو کے خلوص اور صاف گوئی کی ہمیشہ سے قدر کرتارہا ہوں " " اقبال اور سیاست ملی " ناشر اقبال اکیڈیمی کراچی ، صفحہ ۲۸۱ ) ڈاکٹر صاحب ابتدائی زندگی میں وطنیت اور قومیت متحدہ کے زبر دست مراح اور علمبردار تھے (اقبال اور سیاست تھی صفحه ۳۸۰ از مولانا رئیس احمد جعفری)۔دوسرے احمدیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کانگریس کی آلہ کار جماعت احرار نے کر رکھا تھا اور ڈاکٹر صاحب اس کی تائید فرما رہے تھے۔ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے ۲۱ جون ۹ہ کو پنڈت جی کے نام ایک خط میں تحریر فرمایا کہ میر سے محترم پنڈت جواہر لال۔آپ کے خط کا جو مجھے کئی ملا بہت بہت شکریہ۔آپ کے مقالات پڑھ کر آپ کے مسلمان عقیدتمند خاصے پریشان ہوئے۔اُن کو یہ خیال گذرا کہ احمدی تحریک سے آپ کو ہمدردی ہے۔بہر حال مجھے خوشی ہے کہ میرا تاثر غلط ثابت ہوا۔مجھ کو خود دینیات “ سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہے مگر احمدیوں سے خود انہی کے دائرہ فکر میں پیٹنے کی غرض سے مجھے بھی دینیات" سے کسی قدر جی پہلانا پڑا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے یہ مقالہ اسلام اور سہندوستان کے ساتھ بہترین نیتوں اور نیک ترین ارادوں میں ڈوب کر لکھا۔میں اس باب میں کوئی شک وشبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے مذاکرہ ہیں۔لاہور میں آپ سے ملنے کا جو موقعہ میں نے کھویا اس کا سخت افسوس ہے۔۔۔۔آپ مجھے ضرور مطلع فرمائیں کہ آپ پھر پنجاب کب تشریف لا رہے ہیں۔شہری آزادیوں کی انجمن کے بارے میں آپ کی جو تجویز ہے اس سے متعلق خط آپ کو ملایا نہیں۔۔آپ کا مخلص محمد اقبال “ کچھ پرانے خط حصہ اوّل مرتبہ جواہر لال نہرو صفحه ۲۹۳ ناشر مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی ) اس خط سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے احمدیوں کے خلاف جو کچھ لکھا اس کی حیثیت دینیات“ سے دل بہلاوا " کی تھی اور پنڈت نہروی کے مضمون کا اصلی مقصد دراصل احمدیوں کی تائید کرنا ہرگز نہیں تھا۔جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے خود لکھا ہے۔(بقیہ حاشیہ انگلے صفحہ پر ) سے مکتوب بنام پروفیسر صوفی غلام مصطفی صاحب تمیم اقبال نامہ حصہ اول صفحه ۴۶ - ۴۷ - ناشر شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور )