تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 202
ہے اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ یا تو کبھی وہ انہی عقائد کی موجودگی میں جو ہماری جماعت کے اب ہیں جماعت احمدیہ سے تعلق موانست اور مواخات رکھنا برا نہیں سمجھتے تھے یا اب کچھ عرصہ سے وہ اس کے خلات خلوت اور جلوت میں آواز اُٹھاتے رہتے ہیں۔ہمیں ان وجوہ کے اظہار کی ضرورت محسوس نہیں کرتا جو اس تبدیلی کا سبب ہوئے ہیں جس نے سائلہ کے اقبال کو جو علیگڑھ کالج میں مسلمان طلباء کو تعلیم دے را تھا کہ پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں کہ میں ایک دوسرے اقبال کی صورت میں بدل دیا جو یہ کہ رہا ہے کہ "8 میرے نزدیک قادیانیت سے بہائیت زیادہ ایماندارانہ ہے کیونکہ بہائیت نے اسلام سے اپنی علیحدگی کا اعلان واشگاف طور پر کر دیا۔لیکن قادیانیت نے اپنے چہرے سے منافقت کی نقاب الٹ دینے کے بجائے اپنے آپ کو محض نمائشی طور پر جو اسلام قرار دیا اور بانی طور پر اسلام کی روح اور اسلام کے تخیل کو تباہ و برباد کرنے کی پوری پوری کوشش کی " (زمیندار هرمئی ۱۹۳۵) یعنے سنہ کی احمدیہ جماعت آج ہی کے عقائد کے ساتھ صحابہ کا خاص نمونہ تھی لیکن شاہ کی احمدیت بہائیت سے بھی بدتر ہے۔اس بہائیت سے جو صاف لفظوں میں قرآن کریم کو منسوخ کہتی ہے۔جو واضح عبادتوں میں بہاء اللہ کو ظہور الہی قرار دیتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو فضیلت دیتی ہے گویا ڈاکٹرسر محمد اقبال صاحب کے نزدیک اگر ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو منسوخ قرار دیتا، قرآن کریم سے بڑھ کر تعلیم لانے کا مدعی ہوتا ، نمازوں کو تبدیل کر دیتا اور قبلہ کو بدل دیتا ہے اور نیا کلمہ بناتا اور اپنے لئے خدائی کا دعوی کرتا ہے سہتی کہ اس کی قبر یہ سجدہ کیا جاتا ہے تو بھی اس کا وجود ایسا برا نہیں مگر جو شخص رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو ختم النبیین قرار دیتا، آپ کی تعلیم کو آخری تعلیم بتاتا، قرآن کریم کے ایک ایک لفظ ایک ایک حرکت کو آخر تک خدا تعالے کی حفاظت میں سمجھتا ہے۔اسلامی تعلیم کے ہر حکم پر عمل کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے اور آئندہ کے لئے سب ڈوھانی توقیت کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور غلامی میں محصور سمجھتا ہے وہ بڑا اور بائیکاٹ کرنے کے قابل ہے۔یاد رہے علامہ اقبال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضور کو جدید ہندی مسلمانوں میں سب سے بڑا دینی نظر بھی سمجھتے تھے (ملاحظہ ہو رسالہ انڈین اینٹی کویری جلد ۲۹ ستمبر سنتشار صفحه ۲۳۹ جس کا عکس اس کتاب میں موجود ہے )