تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 197
!AY ڈاکٹر اقبال صاحب کو یہانتک یقین تھا کہ جب یہ سوال پیش ہوا کہ وہ کمیٹی جو انتظام کے لئے بنائی جائیگی اس کے کچھ اور ممبر بھی ہونے چاہئیں اور نمبروں کے انتخاب کے متعلق بعض قواعد وضع کر لینے چاہئیں تو ڈاکٹر سر اقبال نے کہا کوئی قوانین بنانے کی ضرورت نہیں ہمیں صدر صاحب پر پورا پورا اعتماد ہے۔اور ہمیں چاہیے کہ ہم عمروں کے انتخاب کا معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیں۔وہ جیسے چاہیں رکھیں جیسے چاہیں نہ رکھیں۔پھر ہنس کر کہا میں تو نہیں کہتا لیکن اگر سارے ممبر آپ نے احمدی ہی رکھ لئے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ ان لوگوں نے کمیٹی کے تمام ممبر احمدی بنالئے۔اس لئے آپ ممبر بناتے وقت احتیاط کریں اور کچھ دوسرے مسلمانوں میں سے بھی لے لیں اور سارے میر احمدی نہ بنائیں۔لیکن آج سرا قبال کو یہ نظر آتا ہے کہ احمدی مسلمان ہی نہیں حالانکہ اس عرصہ میں کوئی نئی بات ہمارے اندر پیدا نہیں ہوئی۔پھر مجھے تعجب ہے کہ ہماری مخالفت میں اس حد تک یہ لوگ بڑھ گئے ہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال جیسے انسان جو مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیڈر، فلاسفر، شاعر اور نہایت عقلمند انسان سمجھے جاتے ہیں۔انگریزی حکومت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے احمدیوں کو کیوں پہنچنے دیا ؟ شروع میں ہی اس ے سر محمد اقبال جن مسلمانوں سے جماعت احمدیہ کو الگ کر کے اقلیت قرار دینا چاہتے تھے ان کی نسبت موصوف کا عقیدہ یہ تھا کہ (1) " اگر نبی کریم بھی دوبارہ پیدا ہو وہ اس ملک میں اسلام کی تعلیم دیں تو خالیا (اس) ملک کے لوگ۔۔۔حقائق اسلامیہ کو نہ سمجھ سکیں ؟ (مکاتیب اقبال صفحه ۵۳ بحوالہ اقبالیات کا تنقیدی معائنہ اک صفر ۱۳۹۶ نہ مؤلفہ قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی ) (۲) ہندوستان کے مسلمان کئی صدیوں سے ایرانی تاثرات کے اثر میں ہیں۔ان کو عربی اسلام سے اور اس کے نصب العین اور غرض ودعایت سے آشنائی نہیں ؟ د مکاتیب اقبال حصہ اول صفحه ۲۳ - ۲۴ کجواله اقبال کا تنقیدی جائزہ “ صفحه ۱۲۰ - ۱۲۱ ) (۳) ہندوستان کے مسلمان اس عربی اسلام کو بہت کچھ فراموش کر چکے ہیں اور کبھی اسلام ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔( " روزگار فقیر جلد دوم صفحه ۱۶۲ ) ) علامہ اقبال نے اسلام سے نا آشنا مسلمانوں کیلئے یہ دعا بھی کی کہ " کاش کہ مولانا نظامی کی دعا اس زمانے میں مقبول ہو اور رسول اللہ مسلم پھر تشریف لائیں اور پسندی مسلمانوں پر اپنا دین بے نقاب کریں۔د اقبال نامه حصہ اول صفحه ۲۷۱ مرتبه شیخ عطاء اللہ صاحب ایم۔اے )