تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 193 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 193

۱۸۲ حال ہی میں اس نے جماعت احمدیہ قادیان کے متعلق اخبارات کو دیا ہے۔ان دونوں پیغاموں میں جو اجتماع مندین ہے اس کو دیکھ کہ ہم حیران ہیں کہ اس شعر کہنے والے اقبال کو اقبال سمجھیں یا اس بیان دینے والے اقبال کو اقبال۔شاعر اقبال نے اپنے شعر میں ہم کو پنپنے کے لئے فرقہ بندی اور ذات پات کے امتیاز سے مجتنب رہنے کا مشورہ دیا ہے۔اور اب لیڈر ا قبال نے ہم کو یہ سیاسی مشورہ دیا ہے کہ ہم قادیان کی جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں اور حکومت پر زور ڈالیں کہ وہ قانونی حیثیت سے بھی احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھے۔ہم کو ڈاکٹر سر محمد اقبال سے اس حد تک پورا پورا اتفاق ہے کہ عام مسلمانوں اور احمدیوں میں اعتقادات کا بہت بڑا اختلاف ہے اور اگر اس اختلاف کو شدت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو بعض صورتوں میں مذہبی اعتبار سے احمدی جماعت اور عام مسلمانوں کے درمیان اتحاد عمل ناممکن سا نظر آتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ احمدیوں کو قطع نظر کر کے کیا اسی قسم کے اختلاف اہلِ سنت اور اہل تشیع میں کار فرما نہیں ہے ؟ کیا یہی تضاد السنت کی مختلف العقیدہ جماعتوں میں نہیں ہے۔وہابی اور منفی ، بریلوی اور دیوبندی ، اسی طرح مختلف اسکول ہر ہر جماعت میں موجود ہیں۔ان میں کی ہر شاخ دوسری شاخ کو اپنے نقطۂ نظر سے مرتد اور کافرگردانتی ہے اور بقول مدترین فرنگ کے یہ تو مسلمانوں کا ایک عام مسئلہ ہے کہ ان میں کا ہر فرد دوسرے کو نہایت آسانی کے ساتھ کافر کہ دیتا ہے۔خیر یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون کافر۔لیکن اس تمام اختلاف کو دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ محفوظ صورت یہی ہے کہ ہم ہر کلمہ گو کو مسلمان سمجھیں جو خدا کو ایک اور محمد رسول اللہ صل للہ علیہ وسلم کو اس کا معیوب اور رسول سمجھتا ہو۔اگر مسلمان کی تعریف صرف یہی تسلیم کر لی جائے تو جیس طرح ایک منفی کو، ایک وہابی کو ایک مقلد کو، ایک غیر مقلد کو ، ایک دیوبندی کو اور ایک بریلوی کو مسلمان کہا جاسکتا ہے اسی طرح احمدیوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔اور کسی کوغیر مسلم کہنے کا ہم کو حق ہی کیا ہے جب وہ خود اس پر مصر ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔اگر ہم اس کو مسلمان نہ بھی سمجھیں تو ہمارے اس نہ سمجھنے سے کیا ہو سکتا ہے اس کا مذہب خود اس کے قول سے تسلیم کیا جائے گا۔بہر حال ہم اس تمام بحث کو ان کے دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی بجائے اس کے محض سیاسی پہلو کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔کہ مسلمانوں کے لئے یہ کتر و بیونت کس حد تک مفید یا مضرت رساں ہے۔ہماری ملکی سیاسیات کا موجودہ دور وہ اہم اور نازک دور ہے کہ ہر جماعت خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں، اپنی شیرازہ بندی اپنی تنظیم اور اپنے تحفظ کی فکر میں ہمہ تن مصروف ہے۔ہندو ہیں کہ اچھوتوں کو اپنے میں ملانے کی کوشش