تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 191
IA۔نے کبھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ ان مجالس میں قادیانی بھی بطور مسلمان شامل ہوتے ہیں۔قادیان سے اِن جماعتوں کو علامہ صاحب کی صدارت میں مالی اعداد ملی مگر علامہ صاحب نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔پنجاب کونسل میں چودھری ظفر اللہ خاں اور علامہ اقبال دونوں مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے پہلو بہ پہلو کام کرتے رہے اور سائمن کمیٹی کے لئے جب چودھری صاحب کو بطور مسلمان میر منتخب کیا گیا تو علامہ صاحب نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔اور انتہا یہ ہے کہ جب حکومت نے گول میز کا نفرنس میں مسلمانوں کی نیابت کے لئے علامہ اقبال اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو بہ حیثیت مسلمان بچنا تو نہ صرف علامہ اقبال نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ وہ لندن میں چودھری صاحب کے دوش بدوش کام کرتے رہے۔حال ہی میں چودھری صاحب کے بھائی مسلمانان سیالکوٹ کی طرف سے کونسل کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔سیالکوٹ، علامہ اقبال کا وطن ہے لیکن علامہ ممدوح نے ہرگز کوئی سعی اس بات کی نہیں کی کہ وہاں کے مسلمان اسبداللہ نعال جیسے غیر مسلم کو اپنا نمائندہ منتخب نہ کریں۔لیکن شاید کہا جائے گا کہ گذشتہ را صلوۃ آئندہ را احتیاط ، جو کچھ ہوا وہ غلط تھا۔آئندہ علامہ صاحب ایسا نہ کریں گے۔اول تو ممدوح کی حیثیت کے بلند فرد کے متعلق یہ عدد ہر گز عذر معقول نہیں کہلا سکتا۔تاہم اگر بغرض دلیل اس کو صحیح بھی تسلی کر دی جائےتو علامہ اقبال کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ حال ہی میں نندن میں جولی کے موقعہ پر جو جماعت اس غرض سے قائم ہوئی ہے کہ برطانیہ اور دنیائے اسلام کے تعلقات بہتر ہوتے چلے جائیں اس میں علامہ اقبال اور چودھری ظفر اللہ خاں دونوں بطور مسلمان شامل ہیں۔یہ لیگ کی خبر رائٹر نے دس مئی کو دی اور وہ گیارہ مئی کے اخبارات میں شائع ہوئی۔اس کے تمبر یا برطانیہ کے لارڈ ہو سکتے ہیں اور یا مسلمان کوئی غیر مسلم غیر انگریز اس کا رکن نہیں ہو سکتا۔اس میں جو لوگ بحیثیت مسلمان شامل ہیں اُن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :- (1) سر آغا خان (شیعہ) (۲) امیر عبد اللہ والی شرق اردن (سنی) (۳) سابق ولیه چند ایران (شیعہ) (۴) نواب چھتاری (حنفی (۵) سر عزیز الدین احمد دشتی) (۶) سر محمد اقبال (سنتی) (6) سر عبد الصمد خال (شیعہ) (۸) چودھری ظفر اللہ خاں (قادیانی) (۹) سر سلطان احمد (شیعه) (۱۰) سر ر عبد القادر و شتی ) (11) حاجی عبداللہ ہارون (آغا خانی)