تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 187 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 187

124 لبرل حکومت اس جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتی بشر طیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیر و حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں " سلہ اخبار سیاست کا اداریہ حسب ذیل اداریہ لکھا :- ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے اس بیان پر مسلم پنجاب کے مقتدر اور با اشهر اخبار سیاست نے ۱۴- ۱۵ مئی ۹۳۵ہ کی اشاعتوں میں سرا قبال اگر چاہتے توجو زبان انہوں نے استعمال کی ہے اس سے بہتر زبان استعمال کر سکتے تھے لیکن خیر یہ دان کے اختیار کی بات ہے کہ وہ اظہار جذبات میں اعتدال سے کام لیں یا نہ لیں ، مجھے اور دوسرے مسلمانوں کو صرف یہ دیکھتا ہے کہ علامہ اقبال کا استدلال کہا تک حق بجانب ہے۔لامہ مروح کے اس بیان میں ختم نبوت کے متعلق جو کچھ موجود ہے ،سیاست اس کا مؤید ہے اور اس کو آپ زر سے لکھنے کے قابل سمجھتا ہے۔علامہ ممدوح نے اس بیان میں حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانیہ اور حضرت محمدی علیہ السلام کے ظہور کا انکار کیا ہے اور اس کو مجوسیوں یہودیوں اور نصرانیوں کا خیال ظاہر کر کے لکھا ہے کہ جاہل مولویوں نے ان عقائد کو اعتبار سے لے کر عام کر دیا حسیں کی وجہ سے اسلام میں فتنے پیدا ہو چکے اور ہو رہے ہیں۔سیاست نے اس پر لکھا کہ اگر علامہ اقبال علمائے احنات وغیرہ کو بلا کہ اُن کے روبرو اپنا نظریہ پیش کریں اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہو جائے کہ نزول مسیح و ظہور مہدی محض ڈھکوسلہ ہی ڈھکوسلہ ہے تو اس سے تحریک قادیان کو اس قدر ضرر پہنچے گا کہ احرار کی فتنہ آرائی ، افتراق پروری ، نفاق انگیزی، چنده بازی، اور دشنام طرازی سے ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔تعجب ہے کہ سالہا سال سے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں جنگ عقائد جاری ہے۔لیکن علامہ اقبال سے آج تک یہ بن نہیں پڑا کہ وہ ایک رسالہ یا مضمون لکھتے یا لیکچر ہی دے کر یہ کہتے کر مسیح موعود و مہدی کی آمد کا خیال ہی شریعت حصہ سے بیگانہ ہے لیکن اب بھی کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔میں 1۔لے حرف اقبال" صفحہ ۱۱۶- ۱۱۷ مؤلفہ لطیف احمد شروانی ایم اے ناشر ایم ثناء اللہ خان ۲۶۔ریلوے روڈ لاہور۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب برطانوی حکومت کی تعریف و توصیف اور اطاعت و وفاداری جس جذبہ شوق اور جوش و خروش سے فرماتے رہے اس کے بکثرت نمونے " باقیات اقبالی" در تیر سید عبد الواحد صاحب معینی ایم۔اے آکسن) میں ملتے ہیں۔اس کتاب میں ملکہ وکٹوریہ (صفحہ ۷۲) سر میکورتھ بینگ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب (صفحہ ۹۷) جارج پنجم (صفحه ۲۰۰۶) سرمائیکل اوڈوائر گورنر پنجاب (صفحہ ۲۱۷) جشن فتح جنگ عظیم اوّل صفحه ، (۲۳) سائمن کمیشن (صفحہ ۲۲۰) کی نسبت شاعر مشرق کے خیالات و افکار اور مراثی و قصائد خاص طور پہ ذیل مطالعہ ہیں۔ان کے چند نمونے تاریخ احمد بہت جلد کے صفحہ ۴۰۵ تا ۲۰۰۷ پر بھی درج ہیں :