تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 184
قبول کر لیں اور غرور پیش کر دیں۔یوں سر اقبال بہ یک وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی انجمین کی مناسب بہنمائی بھی کرتے اور فتنہ و فساد بھی بند ہو جاتا۔لیکن افسوس ہے کہ علامہ اقبال نے اس جرات سے کام نہ لیا۔اور منہ میں گھنگھیتیاں ڈالے انھین کی رسوائی کا تماشہ دیکھا کئے جلسہ کے بعد جب یہ سوال پیش ہوا کہ مولانا ظفر علی صاحب کی تحریک پر جو قرار داد انجین کے پلیٹ فارم سے چودھری ظفر اللہ خان کے خلاف منظور ہوئی ہے۔اس کی تائید یا تردید کی بجائے تو ڈاکٹر صاحب نے پھر اپنی اخلاقی کمزوری کا مظاہرہ کیا اور دلیری سے یہ کہنا مناسب نہ جانا کہ احرار کی حرکت مناسب تھی یا غیر مناسب بلکہ خود خاموش رہنا پسند کیا اور ارکان امین کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔میں کہتا ہوں اور ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ علامہ اقبال کی شخصیت و اہمیت کے رہنما کا فرض تھا کہ وہ قوم کی علی رؤوس باشا رہنمائی کرتا اور اگر احوالہ کی تحریک صحیح تھی تو اسکی تائید کرتا اور اگر معیوب بھی تو اس کی مخالفت کرتا لیکن علامہ اقبال نے ایسا نہ کیا " اے مجلس مشاورت میں حضرت امیر المومنین کا اس سال ۲۰۱۹، ۲۱ ریال ته کوف ادیان میں مجلس مشاورت کا انعقاد ہوا۔اس مجلس کی ایک خصوصیت احمدی نوجوانوں اور احمدی بچوں کہ لینا یعنی کہ حضرت میر یونین نے اپنی اختتامی تقریریں تھی یہ وضاحت فرمائی کہ : اس وقت ہم جنگ کے میدان میں کھڑے ہیں اور جنگ کے میدان میں اگر سپا ہی لڑتے لڑتے سو جائے تو مر جاتا ہے۔ہمارے سامنے نہایت شاندار مثال ان صحابیہ کی ہے جن کے مثیل ہونے کے ہم مدعی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، یہ جھنڈا وہ لے جو اس کا حق ادا کرے۔ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ مجھے دیں۔آپ نے اس کو دے دیا۔جنگ میں جب اس کا ہاتھ کاٹا گیا جس سے اُس نے جھنڈا تھاما ہوا تھا تو اس نے دوسرے ہاتھ سے تھام لیا اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو راتوں میں لے لیا۔اور جب ٹانگیں کاٹی گئیں تو منہ میں پکڑ لیا۔آخر جب اس کی گردن دشمن اڑانے لگا تو اس نے آواز دی، دیکھیے مسلمانو اسلامی جھنڈے کی لاج رکھنا اور اُسے گرنے نہ دینا۔چنانچہ دوسرا اصحابی آگیا۔اور اس نے جھنڈا پکڑ لیا۔آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کر رہا ہے اور رساط له الفضل " مدارس ۱۹ صفحه ۹۰۸ کالم ۲-۴ : قادیان